غزال ضیغم
غزال ضیغم اترپردیش کے ضلع سلطان پور کے ایک گاؤں “باہرپور” میں 17 دسمبر 1968ء کو پیدا ہوئیں۔ انھوں نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے علمِ نباتات میں ایم ایس سی کی، اور اس کے ساتھ ساتھ قانون کی ڈگری بھی حاصل کی، جبکہ اردو اور ڈوگری زبان و ادب میں بھی ایم اے کیا۔ فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ، پونا سے انھوں نے فلم اپریشیئشن کا کورس بھی مکمل کیا۔ ہندی کے مشہور رسالے “منتورا” (الٰہ آباد) کی وہ کچھ عرصہ سب ایڈیٹر رہیں اور آل انڈیا ریڈیو میں کیژول اناؤنسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
انھوں نے افسانے اور ڈرامے دونوں لکھے، لیکن تصویریں بنانا اور رنگوں سے کھیلنا ہی وہ شوق تھا جس سے غزال ضیغم نے اپنی تخلیقی زندگی کا آغاز کیا۔ محکمۂ اطلاعات و رابطۂ عامہ، اترپردیش میں لکھنؤ میں وہ ایک عرصہ فائز رہیں، اور انھوں نے متعدد ڈاکیومنٹری فلمیں بھی بنائیں۔
ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو غزال ضیغم نے اپنے گھر کے ادبی ماحول ہی سے لکھنا شروع کیا۔ ان کے افسانوں میں کرداروں کی نفسیات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور اخلاقی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی گہری عکاسی ملتی ہے۔ ان کے مشاہدے میں گہرائی اور پختگی نمایاں ہے، خاص طور پر بعض افسانوں میں عورتوں کی نئی نسل کی نفسیات، ان کے خیالات اور مطلوبات کو خوب اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کے مشہور افسانوں میں “سوریہ وشی”، “چندروشنی”، “بھولے بسرے لوگ”، “نیک پروین”، “چراغ خانہ دروش”، “گندھے تیزیلی فام”، اور “مدھون رادھیکا” شامل ہیں، جبکہ “ایک لکڑا دھوپ کا” (2002ء) ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ “امرت پیتم” کے نام سے ان کی ایک اور کتاب بھی ہے۔ ان کی تخلیقات اردو کے علاوہ ہندی اور مراٹھی میں بھی ترجمہ ہو چکی ہیں۔
جدید اردو افسانہ نگاروں میں غزال ضیغم کو اس لیے خاص اہمیت حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی یادوں میں لپٹی ہوئی ایک نیم شاعرانہ زبان اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ واقعات کی تفصیل، لفظوں کے چناؤ اور جملوں کے زیر و بم میں گہرا شعور کارفرما نظر آتا ہے۔ کہیں کہیں یہ کہانیاں عجیب و غریب کرداروں کی تخلیق کے ساتھ تہذیب کے ڈھلتے سورج پر مخصوص انداز میں تبصرہ کرتی ہیں۔
مختصر افسانہ “خوشبو“ کا خلاصہ
کہانی ایک عورت کی زبانی بیان کی گئی ہے جو اپنے بچپن کی خوشبوؤں کو یاد کرتی ہے چولہے کی لکڑیوں کا دھواں، بہن کے پکائے چاولوں کی مہک، اور مٹی کی سوندھی خوشبو جو اسے آج بھی لندن کے موسم میں یاد آتی ہے۔ راوی کی بہن اس سے آٹھ سال بڑی تھی اور اسی نے اس کی پرورش کی، کیونکہ ان کی ماں کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا تھا۔ بہن اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کی محبت اور نگہداشت میں گھل مل گئی تھی، اور وہ اپنی محبت کا اظہار پھول اور مٹھائیوں کے ذریعے کیا کرتی تھی۔
جب بہن کی شادی ہوئی تو راوی چھوٹا تھا اور بہن کے جدا ہونے کا غم اس نے شدت سے محسوس کیا۔ برسوں بعد بہن کا شوہر علی شیر لندن چلا گیا، اور بہن بھی وہاں چلی گئی۔ راوی جب بڑا ہوا اور اسے تلاشِ معاش میں لندن جانے کا موقع ملا تو وہ اپنی بہن سے ملنے پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اسے احساس ہوا کہ برسوں کی دوری اور پردیس کی مختلف تہذیب نے بہن اور بھائی کے درمیان ایک انجانا سا فاصلہ اور فرق پیدا کر دیا ہے، جسے اب وہ اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔
اس ملاقات میں پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں، مگر ساتھ ہی وطن اور پردیس کی زندگی، مشرقی اور مغربی اقدار کے فرق کا احساس بھی گہرا ہوتا جاتا ہے۔ کہانی کا اختتام بھائی کے اس احساس پر ہوتا ہے کہ بچپن کی وہ خوشبو محبت، اپنائیت اور رشتوں کی گرمجوشی کی خوشبو اب دور دیس کی زندگی میں کہیں دھندلا گئی ہے، اگرچہ دل میں بہن سے محبت اور تعلق کی وہی گرمجوشی بدستور موجود ہے۔
افسانے کا نام “خوشبو” اسی لیے رکھا گیا ہے کہ پوری کہانی میں مختلف خوشبوئیں دھوئیں کی، مٹی کی، پھولوں کی، کھانوں کی رشتوں کی محبت، اپنائیت اور وفاداری کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں، اور کہانی مشرقی اور مغربی تہذیب کے تصادم کو انہی خوشبوؤں کے حوالے سے خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔
آپ بتائے
سوال 1 ۔ “خوشبو” افسانہ کس نے لکھا؟
جواب ۔ یہ افسانہ غزال ضیغم نے لکھا ہے۔
سوال 2۔ کس افسانوی مجموعے سے “خوشبو” اخذ کیا گیا ہے؟
جواب ۔ یہ افسانہ ان کے افسانوی مجموعے “ایک لکڑا دھوپ کا” سے لیا گیا ہے۔
سوال 3۔ افسانہ نگار کے مستعار نام “غزال ضیغم” کے کیا معنی ہیں؟
جواب ۔ غزال کا مطلب نوجوان ہرن ہے، اور “ضیغم” کا مطلب شیر ہے۔ یوں یہ نام دو متضاد مگر خوبصورت تصورات ، نزاکت اور طاقت کو ایک ساتھ سموئے ہوئے ہے۔
سوال 4۔ اس افسانے کا مرکزی کردار کون ہے؟
جواب ۔ اس کہانی کے مرکزی کردار راوی (بھائی) اور اس کی بڑی بہن ہیں، جن کے رشتے کے گرد پوری کہانی بنی ہے۔
سوال 5۔ بہن اتنا عرصہ گھر کیوں نہیں آئی؟
جواب ۔ شادی کے بعد بہن اپنے شوہر کے ساتھ لندن جا بسی تھی، اسی وجہ سے وہ برسوں اپنے میکے اور بھائی سے دور رہی۔
سوال 6۔ بھائی، بہن سے عمر میں کتنے برس چھوٹا تھا؟
جواب ۔ بہن، بھائی سے تقریباً آٹھ سال بڑی تھی۔
سوال 7۔ بہن کی شادی کہاں ہوئی؟
جواب ۔ بہن کی شادی گاؤں میں ہی ہوئی تھی، بعد میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ لندن منتقل ہو گئی۔
سوال 8۔ علی شیر سے کیا تعلق تھا؟
جواب ۔ علی شیر راوی کا بہنوئی تھا، یعنی اس کی بہن کا شوہر۔
سوال 9۔ تحفہ خریدنے کے لیے بھائی دن بھر کہاں گھومتا رہا؟
جواب ۔ بھائی بہن کے لیے موزوں تحفہ خریدنے کی خاطر بازار میں دن بھر گھومتا رہا۔
سوال 10۔ بھائی، بہن کو کیا تحفہ دیتا ہے؟
جواب ۔بھائی اپنی بہن کے لیے چوڑیاں تحفے میں لاتا ہے، جو بچپن کی یادوں سے جڑی چیز تھی۔
سوال 11۔ سالگرہ کے دن کا پارسل کب موصول ہوا؟
جواب ۔ سالگرہ کے دن ہی شام کو ڈاک کے ذریعے پارسل موصول ہوا تھا۔
سوال 12۔ پل اوور کا رنگ کیسا تھا؟
جواب ۔ پل اوور زرد رنگ کا تھا۔
سوال 13۔ اس افسانے میں کن کن ملکوں کے کھانوں کا تذکرہ ہے؟
جواب ۔ اس میں ہندوستانی کھانوں اور لندن (مغربی طرزِ زندگی) کے کھانوں، دونوں کا تذکرہ ملتا ہے، جس سے دونوں تہذیبوں کا فرق ابھرتا ہے۔
سوال 14۔ افسانہ “خوشبو” میں کن کن خوشبوؤں کا ذکر ملتا ہے؟
جواب ۔ اس افسانے میں دھوئیں کی خوشبو، پکے چاولوں کی خوشبو، مٹی کی سوندھی خوشبو، ہری پتیوں کی خوشبو، پھولوں (خصوصاً گلابی) کی خوشبو، اور اپنائیت و رشتوں کی خوشبو کا ذکر ملتا ہے۔
صحیح جوڑے ملائیے
| نمبر | جملہ | جوڑا |
| 1 | عجب بہار ہے ان زردرو پھولوں کی | بہول کے پھولوں کی طرح |
| 2 | تمہارا اجرا چہرہ زرد تھا | جنوں پسند مجھے چھانو ہے بیولوں کی |
| 3 | زندہ ہی نہیں رہ سکتے ہیں | کمرے میں میری نظر بیٹھی |
| 4 | تمہارا پارسل ملا | شام کی ڈاک سے |
| 5 | ایک پاؤڈر کے پرانے ڈبے پر | ہم لوگ تو بغیر ایئرکنڈیشن کے |
مختصر گفتگو
سوال 1۔ افسانہ “خوشبو” میں کس طرح کہانی کی بنیاد پیش کی گئی ہے؟
جواب ۔
افسانہ نگار نے کہانی کا آغاز روایتی انداز میں کسی واقعے سے نہیں کیا، بلکہ راوی کے حسی تجربے سے کیا ہے یعنی خوشبو کے احساس سے۔ راوی بتاتا ہے کہ اسے دھوئیں میں بھی خوشبو محسوس ہوتی ہے، اور یہیں سے اس کا ذہن ماضی کی طرف پلٹتا ہے۔ چولہے کا دھواں، لکڑیاں، بہن کے ہاتھ کی روٹی یہ سب یادیں تصویر در تصویر کھلتی چلی جاتی ہیں۔ اس طرح افسانہ نگار نے واقعاتی بیانیہ کے بجائے تاثراتی اور یادداشتی اسلوب اپنایا ہے، جس میں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں بلکہ خیالات کی رو کے انداز میں آگے بڑھتی ہے۔
سوال 2۔ بچہ اپنی آزادی کا متلاشی کیوں تھا؟
جواب ۔
بچپن میں راوی کی بہن، ماں کی جگہ لے کر اس کی پرورش کر رہی تھی، اس لیے اس کی نگرانی میں ایک ماں جیسی سختی اور فکرمندی شامل تھی۔ بہن ہر وقت اسے روکتی ٹوکتی، کھانے پینے، کھیلنے کودنے کی حدیں مقرر کرتی۔ ایک بچے کی فطری چاہت ہوتی ہے کہ وہ کھلے میدانوں، درختوں، تالابوں کے کنارے بلا خوف و خطر گھومے پھرے، دوستوں کے ساتھ آزادانہ کھیلے۔ یہی بندش اسے آزادی کا متلاشی بنا دیتی تھی وہ چاہتا تھا کہ ایک دن بڑا ہو کر اپنی مرضی سے جیئے۔
سوال 3۔ افسانہ “خوشبو” میں کس محبت کو اجاگر کیا گیا ہے اور کیوں؟
جواب ۔
اس افسانے کا مرکزی جذبہ بہن بھائی کی محبت ہے، خاص طور پر وہ محبت جو ایک بڑی بہن اپنی چھوٹی عمر ہی میں ماں کا کردار نبھا کر دیتی ہے۔ ماں کی وفات کے بعد بہن نے اپنے بچپن کو قربان کر کے بھائی بہنوں کی پرورش کی نہ صرف ان کا پیٹ بھرا بلکہ ان پر وہی بے لوث شفقت نچھاور کی جو عام طور پر ماں کے حصے میں آتی ہے۔ افسانہ نگار نے یہی ایثار اور قربانی پر مبنی رشتہ اجاگر کیا ہے، شاید اس لیے کہ ایسے رشتے آج کے خود غرض دور میں کم یاب ہوتے جا رہے ہیں۔
سوال 4۔ بہن کی شادی کی خبر سن کر بھائی کیوں خوش ہوا؟
جواب ۔
بچپن کی معصومیت میں شادی کا مطلب صرف تقریب، رونق، مہمانوں کی آمد، نئے کپڑے اور مٹھائیاں ہوتا ہے۔ اسی سطحی خوشی کے زیرِ اثر بچہ ابتدا میں خوش ہوا۔ مگر جیسے جیسے اسے سمجھ آئی کہ شادی کا مطلب بہن کا گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے دور چلے جانا ہے، یہ خوشی رفتہ رفتہ جدائی کے خوف اور غم میں تبدیل ہو گئی یہ ایک بچے کے ذہنی ارتقا اور جذباتی پختگی کا خوبصورت اظہار ہے۔
سوال 5۔ لندن میں بھائی کے ساتھ گھر والوں کا رویہ کیسا تھا؟
جواب ۔
بہن اور بہنوئی نے بظاہر محبت سے استقبال کیا، مگر برسوں کی دوری اور مغربی ماحول نے ان کے مزاج میں ایک باقاعدگی اور رسمیت پیدا کر دی تھی۔ گھر کا نظام وقت کی پابندی، رسمی گفتگو اور محتاط لہجے پر چل رہا تھا وہ بے ساختگی، شور شرابہ اور بے تکلفی، جو ہندوستانی گھروں کی پہچان ہوتی ہے، وہاں مفقود تھی۔ بھانجے بھانجیاں بھی اجنبیوں کی طرح، فاصلے سے پیش آتے تھے۔ اسی دوری نے بھائی کے دل میں یہ احساس جگایا کہ رشتہ اگرچہ خون کا ہے، مگر ماحول نے اسے کسی حد تک بیگانہ بنا دیا ہے۔
سوال 6۔ اس افسانے کا نام “خوشبو” کیوں رکھا گیا؟
جواب ۔
پوری کہانی خوشبو کی علامت پر استوار ہے۔ خوشبو یہاں محض ناک سے محسوس ہونے والی چیز نہیں بلکہ یادوں، رشتوں اور تہذیبی وابستگی کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ گاؤں کی مٹی کی خوشبو وطن سے جڑاؤ کی علامت ہے، کھانوں کی خوشبو بچپن کی یاد دلاتی ہے، اور پھولوں کی خوشبو محبت و اپنائیت کی مظہر ہے۔ عنوان اسی لیے نہایت بامعنی اور موزوں ہے کہ یہ کہانی کے باطنی موضوع (رشتوں کی خوشبو، جو فاصلوں سے ماند پڑ جاتی ہے) کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔
سوال 7۔ بہن اپنے بھائی سے ملتے وقت کیوں پریشان سوالات کرتی ہے، جن سے وہ جھنجھلا اٹھتا ہے؟
جواب ۔
بہن، پردیس میں رہتے ہوئے بھی اپنے وطن، گاؤں، رشتہ داروں اور بچپن کی یادوں سے دلی طور پر جڑی ہوئی ہے۔ برسوں بعد بھائی کو دیکھ کر وہ بے تابی سے سوالات کی بوچھاڑ کر دیتی ہے کون کہاں ہے، کیا ہوا، فلاں زندہ ہے یا نہیں۔ بھائی اس لیے جھنجھلاتا ہے کیونکہ یہ سوالات ماضی کی تلخ و شیریں یادیں تازہ کر دیتے ہیں، اور بعض جوابات (جیسے کسی عزیز کی موت کی خبر) دینا اس کے لیے جذباتی طور پر دشوار ہوتا ہے۔
سوال 8۔ پرانے ڈبے میں بھائی نے ایسا کیا رکھا کہ بہن کو دوسری تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی اور یادگار تحفہ محسوس ہوتا ہے؟
جواب ۔
بھائی نے پاؤڈر کے ایک پرانے خالی ڈبے میں گاؤں کی مٹی بھر کر لائی تھی۔ یہ تحفہ بظاہر بے حیثیت اور معمولی تھا، مگر بہن کے لیے یہ سب سے قیمتی ثابت ہوا، کیونکہ یہ مٹی اس کی جڑوں، اس کے بچپن، اور اس کے کھوئے ہوئے وطن کی خوشبو اپنے اندر سموئے ہوئے تھی جو کسی مہنگے تحفے سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
سوال 9۔ چھوٹی بہن، اس کے گھر اور دوسرے تمام افراد کے خیالات میں تضاد کیوں ہے؟
جواب ۔
یہ تضاد دراصل دو نسلوں اور دو تہذیبوں کے فرق کا نتیجہ ہے۔ بہن اور اس کا خاندان برسوں سے مغربی ماحول میں پروان چڑھے تھے، اس لیے ان کے خیالات، ترجیحات اور طرزِ زندگی مغربی رنگ میں ڈھل چکے تھے۔ بھائی، جو ابھی تک اپنے وطن کی مٹی، روایات اور اقدار سے وابستہ تھا، ان کے مقابلے میں بالکل مختلف سوچ رکھتا تھا۔ یہی مشرق و مغرب کی تہذیبی کشمکش دونوں کے خیالات میں تضاد کی وجہ بنی۔
سوال 10۔ افسانہ “خوشبو” کے عنوان سے آپ کس حد تک متفق ہیں؟
جواب ۔
یہ عنوان کہانی کے مرکزی خیال سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ خوشبو کا استعارہ پوری کہانی میں مسلسل موجود رہتا ہے اور کہانی کے جذباتی نچوڑ کو سمو لیتا ہے یعنی رشتوں کی وہ مہک جو فاصلوں اور بدلتے ماحول کے باوجود دل میں کہیں نہ کہیں باقی رہتی ہے۔ اس لیے یہ عنوان انتہائی موزوں، بامعنی اور فنی اعتبار سے کامیاب کہا جا سکتا ہے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1۔ افسانہ آپ کو کیوں پسند آیا؟
جواب ۔
یہ افسانہ اس لیے متاثر کرتا ہے کہ اس میں رشتوں کی گہرائی کو کسی سطحی جذباتیت کے بغیر، نہایت لطیف اور فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خوشبو جیسے ایک عام سے حسی تجربے کو پوری کہانی کی جان بنا دینا افسانہ نگار کی تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہے۔ اس کے علاوہ ہجرت اور بدلتی تہذیب کے موضوع کو بغیر کسی نصیحت یا فیصلہ کن لہجے کے، محض ایک بھائی کے مشاہدے اور احساس کے ذریعے بیان کرنا، اسے حقیقت پسندانہ اور دل کو چھونے والا بنا دیتا ہے۔
سوال 2۔ افسانے کے فنی محاسن پر بحث کرتے ہوئے “خوشبو” کا جائزہ لیجیے۔
جواب۔
فنی اعتبار سے دیکھیں تو غزال ضیغم نے چند نمایاں تکنیکیں استعمال کی ہیں۔ اول، حسیاتی تفصیل نگاری خوشبو، رنگ، ذائقے کی باریک بینی سے عکاسی، جو قاری کو کہانی میں مکمل طور پر جذب کر لیتی ہے۔ دوم، فلیش بیک تکنیک راوی کا ذہن حال سے ماضی اور پھر واپس حال میں سفر کرتا ہے، جس سے کہانی میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ سوم، زبان کی شاعرانہ چاشنی جملے رواں اور تخلیقی ہیں، محض بیانیہ نہیں بلکہ تاثراتی ہیں۔ چہارم، کردار نگاری فطری ہے بہن کی محبت، بھائی کی بے چینی، سب کچھ حقیقی معلوم ہوتا ہے۔ آخر میں، کہانی کا کھلا اختتام قاری کو خود سوچنے پر مجبور کرتا ہے، جو اس کی فنی بلوغت کی علامت ہے۔
سوال 3۔ افسانہ “خوشبو” کے سماجی پہلوؤں پر گفتگو کریں۔
جواب ۔
سماجی حوالے سے یہ افسانہ کئی اہم مسائل کو چھوتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ہجرت (immigration) کے اثرات کو موضوع بناتا ہے کہ کیسے بیرونِ ملک بس جانے سے خاندانی رشتے کمزور اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرا، یہ نسلوں کے درمیان بدلتی ہوئی اقدار کو دکھاتا ہے دوسری نسل (بہن کے بچے) اپنی جڑوں سے بالکل کٹ چکی ہے اور انھیں اپنے آبائی وطن سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔ تیسرا، یہ خاندانی نظام میں بڑی بہن کے کردار کو بھی نمایاں کرتا ہے، جو ہمارے سماج میں اکثر ماں کی جگہ لے لیتی ہے۔ یوں یہ افسانہ محض ایک ذاتی کہانی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
سوال 4۔ مشرقی اور مغربی تہذیب کے فرق کو اس افسانے کے حوالے سے واضح کریں۔
جواب ۔
افسانہ نگار نے یہ فرق نہایت لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔ مشرقی تہذیب کی نمائندگی راوی کے ذریعے ہوتی ہے گاؤں کی مٹی، دیسی کھانے، بے تکلف محبت، جذباتی وابستگی، اور روایات سے لگاؤ۔ اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب بہن کے گھر کے ماحول میں جھلکتی ہے وقت کی پابندی، رسمی رویہ، محتاط گفتگو، اور بچوں کی آزاد و خود مختار پرورش۔ راوی کو یہ فرق شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ مغربی طرزِ زندگی نے رشتوں کی گرمجوشی اور بے ساختگی کو کسی حد تک کم کر دیا ہے، جبکہ مشرقی روایت میں محبت کا اظہار سادگی، بے تکلفی اور جذباتی کھلے پن سے ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ افسانہ نگار نے کسی ایک تہذیب کو دوسری پر برتر ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ محض ایک غیر جانبدار مشاہدے کے طور پر یہ تضاد پیش کیا ہے، جو اس افسانے کو زیادہ متوازن اور فکر انگیز بناتا ہے۔
Get Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 7 “Khushboo” (خوشبو) Solutions with a complete summary, author introduction, textbook questions and answers, matching exercises, short and detailed discussions, literary analysis, and exam notes. These BSEB Class 11 Urdu solutions are designed to help students understand the chapter easily and score better in board exams.