Other Poets Poetry

Bale Jibreel, Allam Iqbal, Kya Ishq Ek Zindagi E Mustaar Ka, Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل، علامہ اقبال، کیا عشق ایک زندگئ مستعار، کا غزل کی تشریح

بالِ جبریل، علامہ اقبال پانچوی غزل کیا عشق ایک زندگئ مستعار کا کیا عشق پائیدار سے ناپائیدار کا وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک اس میں مزہ نہیں تپش و انتظار کا میری بساط کیا ہے تب و تاب یک نفس شعلہ سے بے محل ہے الجھنا شرار کا کر پہلے

Bale Jibreel, Allam Iqbal, Kya Ishq Ek Zindagi E Mustaar Ka, Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل، علامہ اقبال، کیا عشق ایک زندگئ مستعار، کا غزل کی تشریح Read More »

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Asar Kare Na Kare Sun To Le, Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، اثر کرے نہ کرے سن تو لے، غزل کی تشریح

بالِ جبریل، علامہ اقبال چوتھی غزل اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Asar Kare Na Kare Sun To Le, Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، اثر کرے نہ کرے سن تو لے، غزل کی تشریح Read More »

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Gesu-e-Tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر غزل کی تشریح

بالِ جبریل، علامہ اقبال تیسری غزل  گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر تو ہے محیط بیکراں میں ہوں ذرا سی آب جو یا مجھے ہمکنار

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Gesu-e-Tabdar Ko Aur Bhi Tabdar Kar Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر غزل کی تشریح Read More »

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Agar Kaj Rau Hai Anjum Aasman Tera Hai Ya Mera Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا غزل کی تشریح

بالِ جبریل ،علامہ اقبال دوسری غزل اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں

Bale Jibreel, Allama Iqbal, Agar Kaj Rau Hai Anjum Aasman Tera Hai Ya Mera Ghazal Ki Tashreeh بالِ جبریل ، علامہ اقبال، اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا غزل کی تشریح Read More »

Woh Jo Hum Mei Tum Mei Qarar Tha Ghazal Ki Tashreeh, وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا غزل کی تشریح

غزل کی تشریح وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو تشریح یہ غزل کی ابتدا میں شاعر پرانے تعلقات کے لمحات یاد دلاتا ہے۔ قرارسے مراد وہ گہرا سکون، ہم آہنگی اور روحانی نزدیکی ہے جو

Woh Jo Hum Mei Tum Mei Qarar Tha Ghazal Ki Tashreeh, وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا غزل کی تشریح Read More »

Momin Khan Momin, Asar Usko Zara Nahi Hota Ghazal Ki Tashreeh, مومن خاں مومن، اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا غزل کی تشریح

غزل کی تشریح اثر اس کو ذرا نہیں ہوتارنج راحت فزا نہیں ہوتا تشریح شاعر یہاں دنیا یا کسی خاص شخص کی بے پرواہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کچھ لوگ یا حالات دل پر کوئی اثر نہیں ڈالتے نہ دکھ اور نہ راحت پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جو رنج یا خوشی ہم محسوس کرتے

Momin Khan Momin, Asar Usko Zara Nahi Hota Ghazal Ki Tashreeh, مومن خاں مومن، اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا غزل کی تشریح Read More »

Mirza Ghalib Koi Umeed Bar Nahi Aati Ghazal Ki Tashreeh, کوئی امید بر نہیں آتی غزل کی تشریح مرزا غالب

غزل کی تشریح کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی تشریح اس شعر میں شاعر اپنی گہری مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ زندگی میں اب کسی آرزو، خواہش یا کوشش سے کوئی امید پوری نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا راستہ یا حل نظر نہیں آتا جو اس کے دکھوں کو

Mirza Ghalib Koi Umeed Bar Nahi Aati Ghazal Ki Tashreeh, کوئی امید بر نہیں آتی غزل کی تشریح مرزا غالب Read More »

Mirza Ghalib Naqsh Faryadi Hai Kis Ki Shokhie Tahrir Ka Ghazal Ki Tashreeh, مرزا غالبؔ نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا غزل کی تشریح

غزل کی تشریح یہ غزل مرزا غالبؔ کی ابتدائی دور کی نہایت مشہور غزلوں میں سے ایک ہے، جو فلسفیانہ، رمزیاتی اور فکری گہرائی سے بھرپور ہے۔ غالبؔ نے اس میں انسان، کائنات، فن، تخیل اور حقیقتِ زندگی کے باہمی تعلق پر نہایت بلند فکری انداز میں اظہار کیا ہے۔ ذیل میں ہر شعر کی

Mirza Ghalib Naqsh Faryadi Hai Kis Ki Shokhie Tahrir Ka Ghazal Ki Tashreeh, مرزا غالبؔ نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا غزل کی تشریح Read More »

Khwaja Meer Dard, Tohmat Chand Apne Zimme Dhar Chale Ghazal Ki Tashreeh تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے غزل کی تشریح

غزل کی تشریح تہمت چند اپنے ذمے دھر چلےجس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے تشریح اس شعر میں خواجہ میر دردؔ زندگی کی حقیقت اور انسان کے مقصدِ حیات کو بڑی سادگی مگر گہرے فلسفیانہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر دنیا والوں نے طرح طرح کے الزام

Khwaja Meer Dard, Tohmat Chand Apne Zimme Dhar Chale Ghazal Ki Tashreeh تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے غزل کی تشریح Read More »

Meer Taqi Meer, Hamare Aage Tera Jab Kaso Ne Ghazal Ki Tashreeh, میر تقی میر ہمارے آگے ترا جب کسو نے غزل کی تشریح

غزل کی تشریح ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا تشریح شاعر کہتا ہے کہ جب بھی کسی نے میرے سامنے میرے محبوب کا نام لیا تو میرا دل جو پہلے ہی محبت کے دکھوں سے زخمی تھا تڑپ اٹھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے

Meer Taqi Meer, Hamare Aage Tera Jab Kaso Ne Ghazal Ki Tashreeh, میر تقی میر ہمارے آگے ترا جب کسو نے غزل کی تشریح Read More »

Meer Taqi Meer, Faqeerana Aaye Sada Kar Chale, Ghazal Ki Tashreeh,  میر تقی میر، فقیرانہ آئے صدا کر چلے،غزل کی تشریح

غزل کی تشریح فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے تشریح اس شعر میں میر اپنی زندگی اور موت دونوں کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم دنیا میں فقیروں کی طرح آئے یعنی ہمارے آنے کا کوئی شور و ہنگامہ نہ ہوا، نہ دولت و جاہ و

Meer Taqi Meer, Faqeerana Aaye Sada Kar Chale, Ghazal Ki Tashreeh,  میر تقی میر، فقیرانہ آئے صدا کر چلے،غزل کی تشریح Read More »

Wali Dakni Yaad Karna Har Ghadi Us Yaar Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی یاد کرنا ہر گھڑی اس یار  غزل کی تشریح

غزل کی تشریح یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا تشریح شاعر اپنے محبوب کے ذکر اور یاد کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا معمول قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرا دل چونکہ عشق کی شدت میں بیمار ہے اس لیے ہر وقت محبوب کو یاد

Wali Dakni Yaad Karna Har Ghadi Us Yaar Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی یاد کرنا ہر گھڑی اس یار  غزل کی تشریح Read More »