Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 10 Solutions, Novel, Islah un Nisa، ناول،اصلاح النسا

دنیا میں ناول کو صنعتی عہد کے فروغ کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ سترہویں صدی کے بعد دنیا کی جگہ جگہ ناول نگاری کی ابتدائی کوششیں دکھائی دینے لگی تھیں، جیسے برطانیہ، فرانس اور روس کے ناول نگاروں میں ایک سلسلہ سامنے آیا۔ اسی روش سے متاثر ہو کر 1869ء میں نذیر احمد نے مراۃ العروس کے نام سے ایسی پہلی کتاب لکھی، جسے بعد کے زمانے میں اردو کا پہلا ناول قرار دیا گیا۔ نذیر احمد نے مزید بھی ناول رقم کیے، اور ان کے تمام قصے کسی نہ کسی تانِ قوم کی زیبوں اور اصلاح معاشرہ پر مبنی تھے۔

شاطع اعظم آبادی کے صورۃ الخیال کے نام سے مشہور ہوا، حالی کا ناول مجالس النسا اور رشیدۃ النسا کا ناول اصلاح النسا توپیوں کے طور پر رنگے ہوئے ہیں۔ اسی زمانے میں عبدالحلیم شرر اور پنڈت رتن ناتھ سرشار نے ناول نگاری کا قدرے مختلف رنگ خانہ سجایا۔ شرر تاریخ کے پردے میں اپنی باتیں کہتے ہیں اور سرشار تہذیب و ثقافت اور قدروں کو بنیاد بناتے ہیں۔ اودھ پنچ کے مزاح نگار جدید احمد حسین کے ناول حاجی بغلول، کایا پلٹ اور منشی چیری میں ظرافت کے پردے میں سماجی حقائق کا زبردست اظہار ملتا ہے۔ اسی عہد میں قاری سرفراز حسین عزمی کا ناول شاہد رعنا بھی سامنے آیا۔

1898ء میں امراؤ جان ادا کی اشاعت سے اردو ناول کا جدید عہد شروع ہوتا ہے۔ مرزا ہادی رسوا کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے موضوع، تکنیک اور فکر و فن میں تہوازن سے کام لیا۔ ناول نگاری کے فن اور تکنیک کے اعتبار سے دیکھیں تو رزم زار سے نانا اس نئے عہد کا نقطۂ عروج پریم چند کے ناولوں میں آتا ہے۔ اسرارِ معبد سے منگل سوتر تک پریم چند کے یندرہ ناول ہیں۔ ان کی تعداد میں گودان، میدانِ عمل اور گؤشکار بھی شامل ہیں، جیسے قومی تحریک کا قومی پس منظر ملحوظ رہا۔ پریم چند کے بعد چند ترقی پسند ناول نگاروں کا لبھے کی بازیافت کا دور ہے، قاضی عبدالغفار اور بھگتوں کے پوری اردو گھر دیوا رومانی ناول نگاری ہیں۔

ترقی پسند ناول نگاروں میں سب سے پہلے سجاد ظہیر کا واحد ناول لندن کی ایک رات 1938ء میں شائع ہوا، جس سے اردو میں شعور کی روش کی تکنیک کا تعارف ہوا۔ پہلی بار سجاد ظہیر نے اس ناول کے ذریعے کرشن چندر اور عصمت چغتائی ترقی پسندوں میں خاصے مقبول ناول نگار ہیں، جن میں اہم ناول سب سے کیا جاتا ہے۔ کرشن چندر کا شکست۔ اور ترقی پسندانہ فکر دونوں کا توازن ملتا ہے عصمت چغتائی نے ٹیڑھی لکیر کی اشاعت سے ابتدا کیا، لیکن صدی کی اشاعت نے انھیں بڑے ناول نگاروں کی صف میں شامل کیا۔ 1947ء کے آس پاس بڑی تعداد میں ایسے ناول لکھے گئے جن میں ہندستان کی قوی تحریک سے ابھرنے والے مسائل اور تقسیم ملک کے اثرات زیرِ بحث آئے تھے۔

1959ء میں قرۃ العین حیدر کے ناول آگ کا دریا کی اشاعت کے ساتھ سلسلہ شروع ہوا، وہ پندرہ برسوں تک جاری رہا۔ اداس نسلیں عبداللہ حسین)، خدا کی بستی شوکت صدیقی)، علی پور کا ایلی ممتاز مفتی)، آنگن خدیجہ مستور)، تلاش بہاراں جمیلہ ہاشمی)، پھول حیات اللہ انصاری)، ایک چادر میلی سی راجندر سنگھ بیدی)، اور بہت دیر کر دی علیم مسرور)۔ اردو ناول کی تاریخ میں اہم ہیں 1988ء میں دو گز زمین عبدالصمد)، 1989ء میں پانی غفنر)، مکان پیغام آفاقی) کی اشاعت کے ساتھ اردو ناول نگاری کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ ہم عصر ناول نگاروں نے سب سے زیادہ غفنر کے سطح زبان کے آئے سات برسوں میں ان میں سے دیدہ رفتہ اور دھیک نگار خیال ہیں۔ عبدالصمد کے دوگز زمین کا سوریا، مہابتا، خوابوں کی کامیابی نے مشرف عالم ذوقی نے بھی سرگرمی کے ساتھ ناول لکھے ہیں۔

رشیدۃ النسا کی ولادت غدر سے چند برس پیش 1853ء میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید وحید الدین تھا، جنھیں حکومتِ ہند نے شمس العلما اور خان بہادر کے خطابات سے نوازا تھا۔ سید وحید الدین کی تین شادیاں ہوئیں۔ پہلی بیوی سے چار لڑکوں اور ایک لڑکی کی پیدائش ہوئی، وہی لڑکی رشیدۃ النسا تھیں۔ مولوی امداد امام اثر ان کے سوتیلے بھائی تھے۔

رشیدۃ النسا نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان گھرانوں میں لڑکیوں کا اسکول میں داخلہ نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا، لڑکیاں گھر میں پڑھتی تھیں تو انھیں لکھنا نہیں سکھایا جاتا تھا۔ رشیدۃ النسا نے گھر میں پرینی سی، لکھنا اور پڑھنا دونوں سیکھا لیکن وہ کسی اسکول یا مدرسہ میں داخل نہیں ہوئیں۔ سنِ بلوغ کو پہنچتے پران کی شادی لکھنؤ کے مشہور وکیل محمد یحیٰ سے ہوئی، جو خود بھی جوخد گرائی نایاب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔

رشیدۃ النسا کو تعلیمِ نسواں سے بے حد شغف تھا۔ اسی شوق نے انھیں 1906ء میں مدرسہ اسلامیہ کے نام سے ایک زنانہ مدرسہ کھولنے پر آمادہ کیا۔ اس معائنے کے لیے گورنر بنگال کی بیگم لیڈی فریزر خود پدینہ آئیں۔ زنانہ مدرسہ اور لیڈی فریزر کا معائنہ عظیم آباد کے لیے نادر واقعہ تھا۔ آگے چل کر اسی مدرسہ کو کرانی مدرسہ کا کیا وہ باداشاہ نواب رضوی نے بی۔اے۔ آر۔ اسکول کے نام سے منتقل کر دیا اور اس اسکول کے لیے جائداد عطا کی، جس کی وجہ سے یہ بی۔اے۔ ڈس بھی کہلاتا ہے۔ رشیدۃ النسا کا انتقال 31 جولائی 1931ء میں ہوا۔

رشیدۃ النسا نے مغلیہ تہذیب اور انگریزی حکومت کا عروج اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انھوں نے دیکھا مسلم گھرانوں، خصوصاً عورتوں کی زبوں حالی کا بغور معائنہ کیا اور دیکھا کہ ان کی جہالت کو دور کرتے ہوئے ان کا کاٹ ذر دار محفلی معاشرے میں ہے۔ لہذا معاشرے میں پھیلی توہم پرستی، غلط عقاید، شادی بیاہ اور دیگر خرچیلی رسمات کو دور کرنے کے لیے انھوں نے ایک ناول اصلاح النسا کے نام سے لکھا۔ یہ ناول 1881ء میں لکھا گیا اور 1894ء میں طبع ہوا۔ اس ناول کی پہلی اشاعت پر ناول نگار کے نام کے بدلے تحریر تھا۔ والدہ میر سید محمد سلیمان۔

اصلاح النسا پر ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں مراۃ العروس اور بنات النعش کا گہرا اثر ہے، جس کا اعتراف کا خود ناول نگار نے اپنی خود نویس اظہار میں کیا ہے۔ ناول کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رشیدۃ النسا اپنے عہد کی کسی روشن خیال خاتون تھیں۔ ان کے اصلاحی جذبے پر سرسید تحریک کے اثرات بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اس اقتباس میں کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ محمد معظم نے سوچا کہ بی بی شادی یا بیٹھیں یا بیٹھیں، شادی کا انجام جلد ہی کر دینا ضروری ہے، اور اپنی بیٹیوں کی شادی کیوں نہیں، بس یہ کہ صرف دھمکی دھمکی ہی سے، لیکن کوئی انتظام کرنے والا گھر میں نہ تھا، اس لیے محمد معظم کو سخت تردد پیدا ہوا۔ پھر ان کے خیال میں آیا کہ حسین بخش کریم النسا کو بلا بھیجیں۔ یہ خیال کر کے کریم النسا کو بلوایا۔ جب کریم النسا آئیں تو محمد معظم نے کہا۔ بہن، میں نے تم کو جس کام کے واسطے تکلیف دی، وہ یہ ہے کہ بسم اللہ کی شادی کا انتظام کرو، اور کہا۔ قصہ سب سنا دیا اور کہا کہ اگر کر دو گی تو تم ہمیشہ ہمارا احسان مندر رہوں گا۔

کریم النسا۔ پھر مجھے کیا عذر ہے، جو کیجیے، پر یہ سو چشم بجا لاؤں گی۔

جب محمد معظم بہن سے کہہ کر بازار چلے، تو کریم النسا نے سمجھا نا شروع کیا، بہاوج کو سمجھا کیا، بہت سمجھایا، مگر وہ کب کسی کی بات مانے والی تھیں۔ میاں اور بیٹی کو کوئی نے نہیں تھیں۔ لیکن کریم النسا صلاحیت بھی سمجھ کر جیب کرے ہوں۔ اب محمد معظم نے شادی کا سامان کرنا شروع کیا۔ چیزوں کی خریداری شروع ہوئی، کپڑے سلے جانے لگے، مسالا اور دیگر ضروری چیز بھی خرید کر محمد معظم گھر میں پہنچے۔ کریم النسا اور اس نسا کو سولیقے سے رکھواتیں۔

جب سب چیزیں گھر میں آتی ہیں، بسم اللہ کی ماں اور کریم النسا بسم اللہ کی، اور کہتیں کہ بسم اللہ اور اس کے باپ کے پھول اور چہلم میں خرچ ہوگا۔ قرآن کریم پڑھنے یعنی ملا) کوتنے کا کچھ رکھتے، سب سیدھی رہتے، چیب چیب رہتے، بسم اللہ اور کریم النسا۔ اگر روپے نہیں دیتے، تو کیا ہوا برکاتوا لجھا ہے۔ بسم اللہ کی ماں۔ بسم اللہ کیا کہتی ہو، خاک اچھا۔

محمد معظم نے پہلے تو شرعی آمدنی کا سامان کیا تھا، اب عرفی کیفیت کی ضرورت تلاش ہونے لگی۔ مہاجنوں سے کوئی سیکڑا سودا پیغام لایا، سب رقم سلامی کی گئی۔ بازار گرم ہوا، کریم النسا اور مانگ کارکن ہو گئے۔

پانڈا۔ ہم بہت مدت سے آسرا لگائے ہوئے ہیں، ہمیں پیشو پیر پر ویا جائے۔

پانڈا بہت برت، ہماری، پانچ روپیہ ہم نہ لیں گے)۔ آخر رشوکلدہ سے پچاس روپے پانڈے کو دیے گئے۔ برات کی تاریخ ٹھہرائی گئی، جس دن برات مقر ہو گئی کاون بھی مقر ہوا۔ بسم اللہ اور اس کی ماں نے شادی کا دستور کے مطابق ساتھ چند دن کے لیے الگ الگ کر دیا۔

 الف) امراؤ جان ادا ب) مراۃ العروس ج) آگ کا دریا د) گودان

الف) مرزا ہادی رسوا ب) نذیر احمد ج) پریم چند د) قرۃ العین حیدر

الف) گودان ب) امراؤ جان ادا ج) آگ کا دریا د) لندن کی ایک رات

الف) سجاد ظہیر ب) کرشن چندر ج) عصمت چغتائی د) عبداللہ حسین

الف) 1853ء ب) 1869ء ج) 1881ء د) 1894ء

الف) امداد امام اثر ب) سید وحید الدین ج) محمد یحییٰ د) محمد معظم

الف) مدرسہ اسلامیہ ب) بی۔اے۔آر اسکول ج) علی گڑھ اسکول د) دارالعلوم

الف) 1869ء ب) 1881ء ج) 1894ء د) 1906ء

الف) رشیدۃ النسا ب) کریم النسا ج) والدہ میر سید محمد سلیمان د) بسم اللہ

الف) بسم اللہ کی ماں ب) کریم النسا ج) امداد امام اثر د) محمد یحییٰ

جواب۔ اصلاح النسا کی مصنفہ رشیدۃ النسا کا تعلق انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل سے ہے۔ ان کی پیدائش 1853ء میں ہوئی اور انتقال 1931ء میں ہوا۔

جواب ۔ جی ہاں، اصلاح النسا اردو کی پہلی خاتون ناول نگار کا ناول ہے جو خاص طور پر مسلمان عورتوں کی اصلاح کے مقصد سے لکھا گیا۔

جواب ۔ یہ ناول 1881ء میں لکھا گیا، لیکن اس کی اشاعت 1894ء میں ہوئی۔

جواب ۔ رشیدۃ النسا نے 1906ء میں مدرسہ اسلامیہ کے نام سے لڑکیوں کا مکتب قائم کیا۔

جواب ۔ تعلیم کے مقصد سے متعلق ناول میں شہزادی اور اشرف النسا کے کردار کے درمیان مکالمے ہیں، جن میں تعلیم کے صحیح مقصد اور اس کی اہمیت پر بحث کی گئی ہے۔

جواب ۔ محمد معظم کو خود شادی کا انتظام کرنے میں سخت تردد اور الجھن پیدا ہوئی تھی، کیونکہ گھر میں کوئی انتظام کرنے والا نہ تھا۔ اسی وجہ سے انھوں نے اپنی بہن کریم النسا کو بلوایا اور شادی کا سارا انتظام ان کے سپرد کر دیا۔

جواب۔ اس دور میں عورتوں کا اپنا نام کھلے عام لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا، اس لیے پہلی اشاعت پر مصنفہ کے اصل نام کے بجائے والدہ میر سید محمد سلیمان لکھا گیا۔

جواب ۔ چونکہ اس ناول کا مقصد مسلمان عورتوں میں پھیلی جہالت، توہم پرستی، غلط رسوم اور فضول خرچ رواجوں کی اصلاح کرنا تھا، اسی مقصد کے پیشِ نظر اس کا نام اصلاح النسا رکھا گیا۔

 کریم النسا محمد معظم کی بہن تھیں۔ وہ نہایت سمجھدار اور احسان مند طبیعت کی مالک تھیں۔ محمد معظم کے کہنے پر انھوں نے بسم اللہ کی شادی کا سارا انتظام سنبھال لیا۔ انھوں نے بھاوج کو بھی سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ کسی کی بات ماننے والی نہ تھیں۔ اس کے باوجود کریم النسا نے صبر اور تحمل سے شادی کا سارا انتظام مکمل کیا۔

بسم اللہ کی ماں ایک ضدی اور اپنی مرضی پر چلنے والی عورت تھیں۔ وہ کسی کی نصیحت یا سمجھانے پر توجہ نہیں دیتی تھیں۔ فضول خرچی اور دکھاوے کی رسموں پر یقین رکھتی تھیں اور مالی معاملات میں بھی احتیاط نہیں برتتی تھیں۔

شادی کے موقع پر روایتی رسموں کے مطابق کاموں کی تیاری کی گئی، جیسے کپڑوں کی سلائی، ضروری سامان کی خریداری، اور رشتہ داروں و پنڈتوں کو رقمِ سلامی دینا، جو اس دور کے مسلم گھرانوں میں رائج تھیں۔

توہم پرستی سے مراد ایسے غیر عقلی عقائد اور رسمیں ہیں جن کی کوئی مذہبی یا منطقی بنیاد نہیں ہوتی، بلکہ محض خیالی خوف یا رواج کی بنا پر انھیں مانا جاتا ہے۔ اس اقتباس میں پنڈت کو شادی کے موقع پر تاریخ اور کاون مقرر کرنے کے لیے بلانا اور اسے نذرانہ دینا اسی توہم پرستی کی ایک مثال ہے۔

ماچھے کادن منگنی) اس رسم کو کہتے ہیں جس دن دولہا کی طرف سے کچھ ضروری اشیا دلہن کے گھر بھیجی جاتی ہیں۔ اس اقتباس کے مطابق دولہا کی طرف سے کپڑے، زیورات اور دیگر ضروری سامان دلہن کے گھر بھیجا گیا تھا۔

اس اقتباس میں محمد معظم اپنی بیٹیوں کی شادی کے بارے میں فکرمند ہیں، مگر گھر میں کوئی انتظام کرنے والا موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے انھیں سخت الجھن ہوئی۔ آخرکار انھوں نے اپنی بہن کریم النسا کو بلوایا اور بسم اللہ کی شادی کا سارا انتظام ان کے سپرد کر دیا۔ کریم النسا نے یہ ذمہ داری قبول کی، اگرچہ بھاوج بسم اللہ کی ماں) کو سمجھانے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ وہ اپنی ضد پر قائم رہیں۔ محمد معظم نے شادی کی تیاریاں شروع کیں کپڑوں کی سلائی، ضروری سامان کی خریداری، اور دیگر انتظامات۔ اس دوران فضول خرچی، پنڈت کو رقمِ سلامی دینا، اور شادی سے متعلق روایتی مگر غیر ضروری رسموں کا بھی ذکر ملتا ہے، جن کی وجہ سے شادی پر بلاوجہ زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ اس اقتباس کے ذریعے مصنفہ نے مسلم گھرانوں میں شادی بیاہ کے موقع پر پھیلی فضول رسموں اور فضول خرچی کو نمایاں کیا ہے۔

رشیدۃ النسا نے اپنے کرداروں کو نہایت فطری اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ محمد معظم کا کردار ایک فکرمند اور ذمہ دار بھائی کے طور پر سامنے آتا ہے، جو اپنی بیٹیوں کی شادی کی فکر میں پریشان رہتا ہے۔ کریم النسا کا کردار ایک سمجھدار اور احسان مند خاتون کی نمائندگی کرتا ہے، جو مشکل وقت میں اپنے بھائی کا ساتھ دیتی ہے۔ اس کے برعکس بسم اللہ کی ماں کا کردار ایک ضدی اور غیر معقول عورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو کسی کی نصیحت پر کان نہیں دھرتی۔ ان مختلف کرداروں کے ذریعے مصنفہ نے اس دور کے مسلم معاشرے کی مختلف ذہنیتوں کو نہایت خوبی سے اجاگر کیا ہے، اور یہ باریک بینی ان کی کردار نگاری کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔

کریم النسا اور بسم اللہ کی ماں دونوں الگ الگ ذہنیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ کریم النسا ایک سمجھدار، صابر اور فرض شناس خاتون ہیں، جو مشکل حالات میں بھی ذمہ داری قبول کرتی ہیں اور دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے برعکس بسم اللہ کی ماں ضدی اور اپنی رائے پر اڑی رہنے والی خاتون ہیں، جو کسی کی نصیحت خاطر میں نہیں لاتیں اور فضول خرچی و دکھاوے کی رسموں کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں مصنفہ نے دو مختلف مزاج کی عورتوں کو آمنے سامنے رکھ کر اس دور کے معاشرے میں پائے جانے والے دو مختلف رویوں کو نمایاں کیا ہے  ایک سمجھدار اور اصلاح پسند، دوسری روایت پرست اور ضدی۔

اس جملے میں یہ فرق واضح کیا گیا ہے کہ محض کتابیں پڑھ لینا اور حروف پہچان لینا پڑھنا ضرور کہلاتا ہے، مگر اصل تعلیم اس سے کہیں بڑھ کر ہے  یعنی وہ علم جو انسان کے اخلاق، کردار، تمیز اور عملی زندگی میں بہتری پیدا کرے۔ اگر پڑھنے سے صرف الفاظ کی پہچان ہو مگر زندگی گزارنے کا سلیقہ، اچھے اخلاق اور معقول سوچ پیدا نہ ہو، تو ایسا پڑھنا حقیقی تعلیم نہیں کہلا سکتا۔ میں اس بات سے مکمل طور پر متفق ہوں، کیونکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ذہنی، اخلاقی اور عملی تربیت ہے، نہ کہ محض کتابیں رٹ لینا۔ ایک پڑھا لکھا شخص اگر اپنے علم کو اچھے کردار اور معاشرے کی بہتری میں استعمال نہ کر سکے، تو اس کی تعلیم ادھوری اور بے مقصد رہ جاتی ہے۔

 الف) امراؤ جان ادا ب) مراۃ العروس ج) آگ کا دریا د) گودان

الف) مرزا ہادی رسوا ب) نذیر احمد ج) پریم چند د) قرۃ العین حیدر

الف) گودان ب) امراؤ جان ادا ج) آگ کا دریا د) لندن کی ایک رات

الف) سجاد ظہیر ب) کرشن چندر ج) عصمت چغتائی د) عبداللہ حسین

الف) 1853ء ب) 1869ء ج) 1881ء د) 1894ء

الف) امداد امام اثر ب) سید وحید الدین ج) محمد یحییٰ د) محمد معظم

الف) مدرسہ اسلامیہ ب) بی۔اے۔آر اسکول ج) علی گڑھ اسکول د) دارالعلوم

الف) 1869ء ب) 1881ء ج) 1894ء د) 1906ء

الف) رشیدۃ النسا ب) کریم النسا ج) والدہ میر سید محمد سلیمان د) بسم اللہ

الف) بسم اللہ کی ماں ب) کریم النسا ج) امداد امام اثر د) محمد یحییٰ

Explore the complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 10 Solutions – Novel (ناول), with easy-to-understand explanations; the history of the Urdu novel; Rashidat-un-Nisa’s biography; Islah-un-Nisa summary; objective and subjective questions with answers; character sketches; detailed discussions; and Bihar Board exam-oriented solutions in simple Urdu. Perfect study material for BSEB Class 11 students.