Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 11 Solutions, Novel, Pani, ناول، پانی

غضنفر 9 مارچ 1953ء کو بہار کے گوپال گنج ضلع کے چورانوں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے اور اسکول میں حاصل کی، پھر پانی سے گوپال گنج کالج سے بی۔اے کیا۔ اس کے بعد بہار یونیورسٹی، مظفر پور سے اردو میں ایم۔اے کرنے کے لیے داخلہ لیا، لیکن 1974ء کی جے پی تحریک اور اسی دوران بہار یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی سرگرمیوں کی وجہ سے سنیاں بند کر دی گئیں۔ بعد میں غضنفر مسلم علی گڑھ یونیورسٹی پہنچے، جہاں انھوں نے اردو زبان و ادب میں ایم۔اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔

تدریسی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز علی گڑھ میں ایک عارضی لیکچرر کی حیثیت سے ہوا۔ پھر یونین پبلک سروس کمیشن نے ان کا انتخاب سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز کی اکادمی اردو ریسرچ اینڈ ٹیچنگ سنٹر، میسور حال پردیش) میں بحیثیت لیکچرر تقرر کیا۔ بعد میں اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر، لکھنؤ کے پرنسپل کے لیے این۔سی۔ای۔آر۔ٹی کے ذریعے ان کا انتخاب عمل میں آیا، فی الوقت وہ لکھنؤ میں مقیم ہیں۔

غضنفر کی ادبی زندگی کا آغاز ایک افسانہ بیرا سے ہوا، جس کی اشاعت 1971ء میں ہوئی۔ مشرقی معیار عنوان سے انھوں نے 1978ء میں ایک تنقیدی کتاب شائع کی، اسی دوران وہ تنظیم غزلیں بھی کہتے رہے۔ اور رسائل میں ان کی اشاعت بھی ہوتی رہی، لیکن پھر ہرچل پردیش میں تلامتِ ذات میں انھوں نے فکشن کی طرف توجہ کی۔ 1989ء میں شائع ہوا ان کا ناول پانی۔ اسی زمانے میں عبدالصمد کا ناول دو گز زمین اور پیغام آفاقی کا ناول مکان منظرِ عام پر آئے۔ ان تینوں ناولوں کو ہم عصر اردو ناولوں کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

غضنفر نے پانی سے جو سلسلہ قائم کیا، وہ کچھیل 1993ء)، پنکھیل 1994ء)، پھر کہرانی انکل 1998ء)، دویہ بانی 2000ء)، پسواس 2003ء)، اور منظر 2004ء) کی متواتر اشاعتوں سے مزید مستحکم ہوا زبانِ وادب کے تدریسی پہلو سے وابستہ تدریسِ شعر و شاعری اور دیگر علمی کتابیں بھی ان کی تصانیف میں شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ حیرت فروش کے نام سے شائع ہوا۔ دویہ بانی کا ہندی زبان میں بھی ترجمہ شائع ہوا۔

معاصر افسانہ نویسوں میں اپنے تحریری ذخیرے کی بنا پر غضنفر کو پہچانا جاتا ہے، ان کے ایک ناول کے بعد دوسرا ناول ان کی بدلا ہوا اسلوب کا حامل ہے۔ ان کی نثر میں پناہ انتشار پذیرا قوت موجود ہے۔ داستانی زبان، استعاراتی زبان اور روایتی بیانیہ انداز بھی انھوں نے اپنے ناولوں میں آزمایا ہے۔

اس اقتباس کا آغاز ایک عجیب و غریب منظر سے ہوتا ہے۔ بے نظیر ایک بارے ہوئے جواری اور ناکام شکاری کی صورت میں کام آسمانی چوٹی سے نیچے اتر کر آگے بڑھتا ہوا ہے۔ پہاڑوں سے ٹکراتا، پہاڑوں سے پھسلتا، پتھر کو کھاتا ہوا، ڈگمگاتا گرتا، سنبھلتا بیابان کی ایک ایسی وادی میں پہنچ جاتا ہے جہاں ایک بڑی سی عمارت اور اس کی جھلمل جھلساتی ہوئی روشنی دکھائی پڑی۔ دشت دیدہ خزاں رسیدہ آنکھیں چکا چکا اٹھیں۔

وہ عظیم الشان دروازے میں داخل ہوا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتا وسیع و عریض ہال میں پہنچ گیا۔ حیرت انگیز باتیں تھیں، اندر بہت سارے گھڑ سراہ اور نادار بونوں جیسے دھڑ والے، اور عجیب الخلقت مخلوقات مختلف الانواع مشغولوں میں مصروف نظر آئیں۔ بے نظیر کی آنکھیں پھیل گئیں، وہاں کی اشیا اور حرکات و انکسات کے محاسبے میں مصروف ہو گئیں۔

سفید دیواروں اور برقی تاروں کا سلسلہ اوپر سے نیچے ….. دائیں سے بائیں اور اوپر سے دائیں کی طرف اور نیچے سے دائیں تک پھیلا ہوا تھا جیسے بونوں کی طرح خفاف شخصی کی حیثیت پرشتی کی نہریں جن کے اندر سے برنگ برنگ کے بلبلے ابھر رہے تھے۔

دیواروں کے کنارے چاروں طرف تصور تصور میزیں یوں تربی رکھی تھیں جیسے میزیں پچھلی طرح کی چیزیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں سے کچھ کے آگے بڑی بڑی نگیم ابن اوراق کھلے تھے، کچھ کے سامنے چھوٹے چھوٹے کاغذ رنگ میں بڑے رقیق مادہ بھرے تھے۔ کچھ میزوں پر عجیب اقسام کے برقی آلات پڑے تھے، اور کچھ رخانی اوزار گرے تھے۔ کچھ نگا ہوں پر ایک بورڈ پر برقی قسم جل رہے تھے، جن کے نیچوں پر ان پرانوں کی چھوٹی انگلیاں تلک رہی تھیں۔ ان کی نگاہ اور بورڈ پر مختلف سائز کی چھوٹی بڑی سوئیوں کی سرمر حرکات دلکش تھیں۔

بے نظیر آگے بڑھتا ہے تو اسے ایک اجنبی، عجیب الخلقت ہستی سامنے کھڑی نظر آتی ہے، جو اس سے سوال کرتی ہے۔ تم کون ہو؟ یہاں کس طرح اور کس لیے آئے ہو؟ بے نظیر جواب دیتا ہے کہ وہ ایک پیاسا ہے، پانی کی تلاش میں بھٹکتا ہوا در بدر نکلا ہوا ہے، اور پوچھتا ہے کہ یہ کون سی جگہ ہے اور یہ عمارت کیسی ہے۔

وہ ہستی بتاتی ہے کہ یہ ایک تحقیقاتی عمارت ہے جہاں موجودات کا مطالعہ ہوتا ہے اور کائنات کی ماہیت معلوم کی جاتی ہے۔ یہاں چیزوں کی حقیقت اور ان کے حرکات کے اسباب و علل کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ اس جہاں کے بے کنار امکانات میں غور و خوض کیا جاتا ہے اور نئے حقائق دریافت اور انکشافات کیے جاتے ہیں، جن سے دنیا کو روشناس کیا جاتا ہے۔

بے نظیر کہتا ہے کہ اسے لگتا ہے وہ مناسب مقام پر پہنچا ہے، شاید یہاں اس کا مسئلہ آسان ہو جائے۔ وہ ہستی پوچھتی ہے کہ اس کی کیا مشکل ہے، کون سا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی عقدہ کشائی چاہتا ہے؟ بے نظیر جواب دیتا ہے کہ اس کی مشکل بس ایک ہی ہے، اور وہ ہے پیاس۔ آواز رکی گلی اور زبان خشک ہونٹوں پر پھرنے لگی۔

اس پر وہ ہستی اسے پانی لا کر دیتی ہے اور بے نظیر بتاتا ہے کہ اس کی پیاس کی داستان بہت لمبی ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیابان میں ایک تالاب کی تلاش میں نکلا تھا، جس تالاب پر مگرمچھوں کا قبضہ تھا اور پانی حاصل کرنے کے لیے ان مگرمچھوں سے جنگ کرنی پڑی تھی۔ اتفاق سے وہ جنگ میں مگرمچھوں کو تالاب سے بھگا کر جیت گئے، لیکن بہت سے مگرمچھ زہر میں پانی کم گھول جاتے گئے۔ بڑی مشکل سے، بڑی زہر گھول اور جاں فشانی سے ان کوکٹ کاٹ کر زہر کو زائل کیا، اس کے بعد تالاب کی حفاظت کے لیے اپنے کچھ ساتھیوں کو تالاب کے آس پاس چوکیوں پر ٹھا کروا کر لوٹ آئے۔ کچھ دنوں بعد پھر انھیں پریشان ہونے کی خبر ملی، جب وہ واپس آئے تو تالاب کو غائب پایا۔ چاردیواری کھڑی دیکھی، اونچی بلند و بالا دیواری۔

بے نظیر تالاب کی تلاش میں پریشان جوجی پر ارج پرچاڑ کر جانتا رہا۔ محافظ دستوں کے کہنے پر اسے پتہ چلا کہ گرمچھوں کے سرغوں نے آپ سے یہ حرکت انسانی لہجے میں کی، ان کے حواس پریشان اور از ہان کی خاک اس بیابان میں چھانتے پھر رہے ہیں۔ وہ ہستی کہتی ہے کہ اگر بے نظیر اپنی رودار حیرت انگیز اور دلچسپ ہے، تو ضروری نہیں کہ یہاں بیٹھ کر اسے سنایا جائے، بلکہ ان مسائل کا حل تلاش کرانا زیادہ اہم ہے۔ اسی عقدے کا حل ہم ضرور تلاش کریں گے۔

وہ ہال کے وسط میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ سرشرک شنگ! اس عجیب الخلقت ہستی کے ہونٹوں سے یہ عجیب قسم کی غریب آواز نکل کر ہال میں گونج پڑی۔ گھڑوں جیسے سروں والے تمام کام چوک پڑے تھے، اپنے اپنے کاموں کو چھوڑ کر اس کے کراس کے قریب جمع ہو گئے۔ سب کی آنکھیں نکل کر اس کی عینکوں میں داخل ہو گئیں۔

بو ہیو یا نگ، آیو آپا یا نگ، نو بیو نا نگ، جوجیو جنتا نگ کے الفاظ ہستی کے منہ سے نکلے، اور عجیب الخلقت مخلوقات کے ان عجیب الصوت کلمات کے دھڑوں پر تمام نظرے گٹرے لگے۔ سے، سو سو ادگ، اس کی آنکھیں بے نظیر کی طرف بکنے لگیں۔ بو ہیو بیا! سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس عجیب الخلقت مخلوقات کی چیخ آئیں چار پانو ایک میز کے پاس جا کر واپس بے نظیر کے پاس لوٹ آئے، دوسرے مختلف العقول لونے کے لیے اپنی اپنی نشستوں پر پہنچ گئے۔

اس کے بعد ہستی بے نظیر سے کہتی ہے۔ لو، آبیاذوں کا پیکس اپنے پاس رکھوا اور دروازے کے پاس بیٹھے ہمارے مسئلے کی عقدہ کشائی میں مشغول ہو جا رہے ہیں۔ اس نے آگے بڑھ کر خالی کرسی کے پاس ایک بڑھ کر کے پاس خالی میز کے پاس بیٹھ گیا۔ اس کی انگلیاں اور آنکھیں علم و عمل میں مصروف ہو گئیں۔

بے نظیر ہال سے نکل کر دار التحقیقات کے دروازے کے انتظار میں نتائج کی امید و روز و شب گزارنے لگا۔ پرواز کوپر بلند ہوتی رہی۔ انتظار کی ساعتوں کے درمیان اسے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی۔ کچھ عرصے تک اس نے صبر و تحمل سے کام لیا، لیکن آخرکار حد سے آگے پہنچ گئی جہاں سے آگے جاننا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اکتا کر وہ کھڑا ہو گیا۔

اس کے قدم اندر داخل ہوئے، وہ اس عجیب الہیبت ہونے کے پاس پہنچ گیا جس کے پاس اس کی مشکل کی عقدہ کشائی کا یقین دلایا گیا تھا۔ بے نظیر پوچھتا ہے۔ کچھ معلوم ہوا؟ ہستی جواب دیتی ہے۔ کیوں لکا لاگ؟ بے نظیر آواز پر جھپ پڑا، وہ چونک اٹھا۔ نہیں، ابھی کچھ معلوم نہیں ہوا۔ وقت تو کافی لگ گیا؟ کام دشوار ہے، وقت تو لگے گا ہی۔ انتا وقت لگ گیا اور کچھ بھی معلوم نہ ہو سکا؟ ہستی جواب دیتی ہے کہ تمھارے کام کا جس میز نے اٹھایا ہے، وہ اتاشمکل ہے کہ اس کے لیے اتاوقت کچھ بھی نہیں ہے۔

اس کے بعد بے نظیر کو ایک اور کمرے میں لے جایا جاتا ہے، جہاں ایک بڑا شیشوں کا دیوار محدب ساحت آویزاں تھا۔ اس شیشے کی روشنی سرخ رنگ کی تھی۔ بے نظیر پوچھتا ہے کہ یہ چیز کیا ہے، تو ہستی بتاتی ہے کہ یہ ان کی تحقیقات کا معاملہ حل کر سکتی ہے۔ آبیاذوں سے پیاسے اور رنجید افراد کے بارے میں یہاں پتہ چلایا جاتا ہے۔

جواب ۔ ناول پانی کے تخلیق کار غضنفر ہیں۔

جواب ۔ غضنفر 9 مارچ 1953ء کو پیدا ہوئے۔

جواب ۔ غضنفر کا تعلق بہار سے ہے، وہ گوپال گنج ضلع کے چورانوں گاؤں میں پیدا ہوئے۔

جواب ۔ دار التحقیقات وہ عمارت تھی جہاں موجودات کا مطالعہ کیا جاتا تھا اور کائنات کی ماہیت معلوم کی جاتی تھی۔ یہاں چیزوں کے حرکات کے اسباب و علل معلوم کیے جاتے تھے اور نئے حقائق و انکشافات کیے جاتے تھے، جن سے دنیا کو روشناس کرایا جاتا تھا۔

جواب ۔ بے نظیر پانی کی تلاش میں پریشان اور بھٹکتا ہوا در بدر پھر رہا تھا۔

جواب ۔ آبیاذہ وہ پیکس تھیلا یا سامان) تھا جو بے نظیر اپنے ساتھ لایا تھا، جسے دروازے کے پاس رکھ کر وہ اندر تحقیق کے لیے داخل ہوا۔

جواب ۔ یہ اس تحقیقاتی عمارت میں موجود عجیب الخلقت مخلوقات بونوں جیسے دھڑ والی ہستیوں) نے دریافت کیا۔

جواب ۔ آبیاذہ بے نظیر کا سامان تھا جو اس نے دروازے کے پاس رکھا، اور بعد میں وہ اپنے مسئلے کی تحقیق کے لیے اندر داخل ہو گیا۔

جواب ۔ تالاب کے پانی میں مگرمچھوں نے زہر گھولا تھا، جب وہ اپنی جان بچانے کی جدوجہد میں ہار رہے تھے۔

جواب ۔ زہر کے اثر کو مگرمچھوں کو کاٹ کر یعنی انھیں مار کر یا شکست دے کر) زائل کیا گیا۔

جواب ۔ یہ اس عجیب الخلقت ہستی کی زبان کا ایک لفظ/جملہ تھا جو بے نظیر کے سوال کے جواب میں بولا گیا۔

جواب ۔ غضنفر کے تین ناولوں کے نام یہ ہیں۔ پانی، کچھیل اور پنکھیل۔ اس کے علاوہ کہرانی انکل، دویہ بانی، پسواس اور منظر بھی ان کے ناول ہیں۔)

جمعواحد
تخیراتتخیر
اسبابسبب
عللعلت
انکشافاتانکشاف
ایجاداتایجاد
امکاناتامکان
تحقیقاتتحقیق
موجوداتموجود
مشکلاتمشکل
حادثاتحادثہ
حضراتحضرت

جواب ۔ غضنفر نے تدریسی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز علی گڑھ میں ایک عارضی لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔ بعد میں یو۔پی۔ایس۔سی کے ذریعے ان کا انتخاب سنٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز، میسور میں لیکچرر کے طور پر ہوا۔ اب وہ لکھنؤ میں اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سنٹر کے پرنسپل کے عہدے پر فائز ہیں۔

جواب ۔ غضنفر نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا، ان کا پہلا افسانہ بیرا 1971ء میں شائع ہوا۔ لیکن آج ان کی شہرت ناول نگاری کی وجہ سے ہے، خاص طور پر ناول پانی کی اشاعت کے بعد وہ ناول نگار کے طور پر زیادہ مشہور ہوئے۔

جواب ۔ تالاب پر مگرمچھوں کا قبضہ تھا، اس لیے بے نظیر اور اس کے ساتھیوں کو پانی حاصل کرنے کے لیے ان مگرمچھوں سے جنگ کرنی پڑی۔

جواب ۔ بے نظیر اور اس کے ساتھی مگرمچھوں سے جنگ جیت کر تالاب پر قبضہ کر چکے تھے۔ حفاظت کے لیے کچھ ساتھیوں کو وہاں چوکی پر تعینات کر کے وہ خود لوٹ آئے۔ کچھ دنوں بعد جب وہ واپس تالاب کی طرف گئے تو حیرت انگیز طور پر تالاب غائب پایا، اور اس کی جگہ ایک اونچی چار دیواری کھڑی دیکھی۔

جواب ۔ سرشرک شنگ وہ عجیب اور غریب آواز تھی جو اس اجنبی ہستی کے ہونٹوں سے نکلی۔ اس آواز کا اثر یہ ہوا کہ تمام بونے جیسے دھڑ والی مخلوقات اپنے اپنے کام چھوڑ کر فوراً اس کے قریب جمع ہو گئیں۔

جواب ۔ بے نظیر کی داستان سننے کے بعد اسے ایک اور کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ایک بڑا شیشوں کا محدب دیوار تھا جس سے سرخ رنگ کی روشنی آ رہی تھی، جو ان کے مسئلے کی تحقیق میں مددگار سمجھی جاتی تھی۔

جواب ۔ غضنفر کی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا اور ان کا پہلا افسانہ بیرا 1971ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے تنقیدی کتاب مشرقی معیار 1978ء میں لکھی اور کچھ عرصہ غزلیں بھی کہتے رہے۔ اسی دوران رسائل میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کی توجہ فکشن یعنی ناول نگاری کی طرف مبذول ہوئی، اور 1989ء میں ان کا پہلا ناول پانی شائع ہوا۔ اس کے بعد وہ مسلسل ناول لکھتے رہے، جن میں کچھیل، پنکھیل، کہرانی انکل، دویہ بانی، پسواس اور منظر شامل ہیں۔ اسی طرح تدریسی اور علمی موضوعات پر بھی کتابیں لکھیں اور ان کا افسانوی مجموعہ حیرت فروش کے نام سے بھی شائع ہوا۔

جواب ۔ غضنفر کے ہم عصر ناول نگاروں میں عبدالصمد اور پیغام آفاقی شامل ہیں۔ عبدالصمد کا مشہور ناول دو گز زمین ہے، جبکہ پیغام آفاقی کا مشہور ناول مکان ہے۔ یہ تینوں ناول پانی، دو گز زمین اور مکان) اسی دور میں شائع ہوئے اور ان تینوں کو ہم عصر اردو ناولوں کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔

جواب ۔ غضنفر کی ادبی سرگرمیوں کو دو الفاظ میں بیان کیا جائے تو وہ افسانہ نگاری اور ناول نگاری ہیں۔ ان کا آغاز افسانہ نگاری سے ہوا، مگر بعد میں ناول نگاری میں انھیں زیادہ پہچان اور شہرت حاصل ہوئی۔

جواب ۔ بے نظیر نے عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک وسیع و عریض ہال دیکھا، جہاں گھڑ سراہ اور نادار بونوں جیسے دھڑ والی عجیب الخلقت مخلوقات مختلف مشغولوں میں مصروف تھیں۔ سفید دیواروں پر برقی تاروں کا جال بچھا ہوا تھا، جس میں سے رنگ برنگے بلبلے ابھر رہے تھے۔ دیواروں کے کنارے چاروں طرف میزیں رکھی تھیں، جن پر بڑی بڑی نگیم اوراق، رنگین رقیق مادہ بھرے کاغذی برتن، عجیب برقی آلات، اور مختلف اوزار بکھرے پڑے تھے۔ کچھ میزوں کے پاس برقی بورڈ جل رہے تھے، جن پر ان مخلوقات کی چھوٹی انگلیاں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں اور سوئیاں مختلف سائز میں حرکت کر رہی تھیں۔ آگے چل کر اسے ایک اور کمرے میں لے جایا گیا، جہاں ایک بڑا محدب شیشے کی دیوار تھی جس سے سرخ رنگ کی روشنی نکل رہی تھی۔

جواب ۔ اس اقتباس کے مطابق، دار التحقیقات میں موجود ہستیوں کا خیال تھا کہ ان کے پاس موجود آلات اور تحقیقاتی طریقوں کے ذریعے وہ بے نظیر کے تالاب اور پانی سے متعلق مسئلے کی عقدہ کشائی کر سکتے ہیں۔ بے نظیر کا آبیاذہ سامان) دروازے کے پاس رکھوایا گیا تاکہ وہ آزادانہ طور پر تحقیق کے عمل میں شریک ہو سکے۔ ان مخلوقات نے اپنی خاص زبان اور طریقہ کار سے اس کی پیاس اور تالاب کے غائب ہو جانے کے راز کو سلجھانے کی کوشش کی، جس میں انھوں نے مختلف آلات اور شیشوں کی مدد لی۔

الف) 9 مارچ 1953ء ب) 9 مارچ 1951ء ج) 9 اپریل 1953ء د) 9 مارچ 1963ء

الف) مظفر پور ب) گوپال گنج ج) لکھنؤ د) میسور

الف) بہار یونیورسٹی ب) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ج) دہلی یونیورسٹی د) پٹنہ یونیورسٹی

الف) پانی ب) بیرا ج) مکان د) حیرت فروش

الف) 1978ء ب) 1989ء ج) 1993ء د) 1998ء

الف) پانی ب) مکان ج) دو گز زمین د) پسواس

الف) دو گز زمین ب) مکان ج) پانی د) کچھیل

الف) خوراک ب) پانی ج) پناہ د) سونا

الف) بونوں کا ب) مگرمچھوں کا ج) سانپوں کا د) پرندوں کا

الف) خرید و فروخت ب) تحقیق ج) تعلیم د) عبادت

SEO-Friendly Short Description:

Explore the complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 11 Solutions – Novel (Pani / پانی) by Ghazanfar. This guide includes the author’s biography, an easy summary, objective and subjective questions with answers, character analysis, vocabulary, important MCQs, and Bihar Board exam-oriented notes in simple Urdu. A perfect study resource for BSEB Class 11 Urdu students.