Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 12 Solutions, Drama

دنیا کے قدیم ادب کے ابتدائی نمونے شعری ڈرامے کی شکل میں ملتے ہیں۔ یونانی اور سنسکرت ادب میں تخلیق و تنقید سے متعلق تمام ابتدائی روایتیں اسی صنف سے ہی متعلق رہی ہیں، لیکن اردو ڈرامہ نگاری کی کسی قدیم روایت کا سراغ اب تک نہیں مل سکا۔ اردو میں ڈرامے کی ابتدا کا سہرا اودھ کے نوابوں کے سر ہے، جہاں تہذیب اور معاشرتی زوال کی ایک دلچسپ ادبی تخلیقات کے آئینے میں جھلک ملتی ہے۔

شجاع الدولہ اور ادب و ثقافت سے دلی محبت رکھنے والوں نے لکھنؤ کو ادب و شعر کی دولت عطا کی، جس کا عروج نواب واجد علی شاہ کی شخصیت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ واجد علی شاہ نے رام لیلا کی طرح کرشن لیلا کی نوٹنکی اور رسوانگ کی ملی جلی شکل ایجاد کی، اور اسے “رہس” کا نام دیا۔ واجد علی شاہ کے خود رقص اور ادا کاری کرتے تھے۔ 1843ء میں ان کا “رہس رادھا کنہا” کھیلا گیا، حالانکہ اس ڈرامے کا جو پہلا نسخہ دستیاب ہے، وہ 1861ء کا ہے۔

واجد علی شاہ کے رہس شاہی اسٹیج کا حصہ تھے جہاں عام لوگوں کا گزر ممکن نہیں تھا۔ لیکن شاہی اسٹیج کی فضیلت اور اہمیت اپنی جگہ لیکن حقیقی شعر و ادب کی روایات عوامی منچ پر بھی پروان چڑھتی رہیں۔ لکھنؤ کے اہل قلم کے شائقین کے لیے سید آغا حسین لکھنوی نے “اندر سبھا” کے ذریعے مرزا امانت کی امانت کو عوام تک پہنچایا۔ 1853ء میں پہلی بار اسٹیج پر لایا گیا اور لکھنؤ میں شاہی اسٹیج اور اندر سبھا کے عروج کے ساتھ ہی دیگر موضوعات پر بھی ایسے ڈرامے آزادانہ طور پر لکھے جانے لگے۔ ایسے ڈراموں کی بہترین مثال رام کیشو رام بھٹ کے تین ڈرامے ہیں۔ “سجاد وسنبل”، “اندھوں کی آنکھ” اور “شمشاد و سوسن”۔

انیسویں صدی میں بہار کے علاوہ بنگال اور بمبئی کی طرف اردو ڈرامے کا رنگ بڑھا۔ اس رنگ ڈھنگ کے کاروان کے لیے پیشہ ورانہ کمپنیاں قائم ہوئیں اور بعض کلبوں کا وقت بھی اسٹیج کے لیے وقف ہو گئے۔ اس دور میں پروفیشنل طریقے سے پارسیوں نے دھیان دیا اور آخری بیس برسوں میں کئی مشہور اسٹیج ڈرامے کیے، جن کی ادبی قدر و قیمت آج بھی قائم ہے، وہ ہیں۔ بے نظیر بدر منیررونق بنارسی)، ہنگاؤ غفلتطالب بنارسی)، مرقع لیلی مجنوںمرزا امادی رسوا)، طلسماتِ سلیمانیبزرگ لاہوری) وغیرہ۔

اردو ڈرامے کا موڑ اس آغا حشر کاشمیری کا وارد و مسعود ہوتا ہے بیسویں صدی کے صاحب طرز لکھنے والوں میں شامل ہیں۔ اردو ڈرامے کی تاریخ میں جب کسی نام کی تلاش ہو تو وہ آغا حشر کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت نہیں ہوتی۔ آغا حشر نے لاہور میں لکھا تھا۔ ان کا مشہور ترین ڈرامہ “سلور کنگ” 1910ء میں لکھا گیا تھا۔ لاہور میں “انڈین شیکسپیئر تھیٹریکل کمپنی” اور “یہودی کی لڑکی” ڈراما لکھا جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا۔ 1930ء میں ڈراما “رستم و سہراب” لکھا۔ 1896ء سے 1935ء کے بیچ کے دوران انھوں نے دیگر 33 ڈرامے بھی لکھے اور پھر فلمیں سامنے آئیں۔

جب آغا حشر کی شہرت آفتاب نصف النہار کی طرح تھی، اسی ایک اردو ڈرامہ جسے اردو ڈرامے کی تاریخ میں یاد رکھا جاتا ہے، 1922ء میں لاہور میں ایک بائیس برس کے نوجوان امتیاز علی تاج نے “انار کلی” کے نام سے لکھا۔ اس سے پہلے ایک ڈراما جسے لکھا اس کی اشاعت کوئی دس برس بعد ہوئی، تاج نے خود اسٹیج بھی کیا۔ یہ ایسی کہانی ہے جس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے، لیکن ہولی لوگوں کے دلوں میں ایک متقولیت کی طرح قائم ہوا۔ “انار کلی” کی یہی طاقت ہے، مکالمات، تصادم، کردار نگاری، گیت اور سنگیت، اور ڈرامائیت سے بھرپور موضوع کے اعتبار سے۔

آغا حشر اور امتیاز علی تاج کے بعد اردو ڈرامانگاروں کے نام کی اہمیت کا حال حبیب تنویر اور سید محمد مجیب اور عابد حسین کی خدمات کی طرف توجہ ہے۔ اسی زمانے میں اردو کے دیگر ادیب اور شاعروں نے بھی ڈراموں کی طرف توجہ کی۔ سعادت حسن منٹوآو)، راجندر سنگھ بیدیسات کھیل)، ابراہیم جلیساجالے سے پہلے)، رشید جہاںانچو کا خون)، عصمت چغتائیدہانی باکیں) وغیرہ۔

سید امتیاز علی تاج 1900ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید ممتاز علی سرسید کے دوست تھے، جو مولوی مقبول العلما تھے، اور انھیں عربی، فارسی اور انگریزی میں دست گاہ حاصل تھی، وہ جدید تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ عورتوں کی تعلیم اور اصلاح کے لیے انھوں نے بہادپیب رسالہ “تہذیبِ نسواں” کے لیے خدمات انجام دیں۔

عورتوں میں بھی پڑھی روشن خیال خاتون تھیں، ان کی والدہ نذی محمدی بیگم، جو مقبول اور عوام النساء صدی تک نکالتی رہیں۔ والدین ملک کی ذہنی تربیت میں غالب اثر رکھتے تھے، جو بچوں کے ذہن پر گہرا اثر رہا۔ امتیاز علی تاج کے گھر پر علمی ماحول کا نہایت خوشگوار اثر ہوا۔ انھوں نے نہایت کم عمری سے ہی لکھنا شروع کیا۔ چار سے بھی کم عمری میں اپنے گھر کے مشہور ہفتہ وار اخبار “پھول” میں ان کے لکھنا شروع کیا۔ اس نے تفصیل کی ادبی مزاج ہوجاس نے آغاز میں ان کی تفصیل و تہذیب میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا صحافتی شعور بہت قدرت رکھتا تھا کہ اپنی طالب علمی کے دوران ہی انھوں نے “کہکشاں” کا اجرا کیا، والد کے انتقال کے بعد انھوں نے “تہذیبِ نسواں” اور “پھول” کی ذمہ داری خوش دلی سے سلوی سنبھالی۔ 1958ء میں وہ مجلس ترقی ادب، لاہور کے ڈائریکٹر ہوئے، وہ دار الاشاعت پنجاب کے علمی و ادبی امور کے مشیر نگراں اور رفیقین بھی تھے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں “ستارۂ امتیاز” کے خطاب سے نوازا گیا۔ 19 اپریل 1970ء میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، وہ اس تاب نہ لا سکے، ان زخموں کا داغا اور ان کا وصال ہوگیا۔

امتیاز علی تاج نے شاعری اور بچوں کے لیے بہت سی کہانیاں لکھیں لیکن اردو میں انھیں شہرت “چچا چھکن” اور “انار کلی” کی وجہ سے ملی۔ اہلہ کی کتاب “جیرے کرسن من این اے بوٹ” کے ایک کردار دار الحماقل بوجہر کو بنیاد بنا کر انھوں نے چچا چھکن کا کردار اردو ادب کا مقبول ترین کردار بنا دیا۔ اسی طرح “انار کلی” کی داستان حیات لکھ کر بحیثیت ڈرامانگار دوام بقائے حاصل کر لی، پیدرامانہ بیان اور مکالموں پر زور اعتبار سے آج بھی اہم ہے۔ آج بھی اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

اس اقتباس میں کہانی کے کردار جلال الدین محمد اکبربادشاہِ ہند)، سلیماکبر کا بیٹا اور ولی عہد)، بختیارسلیم کا بے تکلف دوست)، رانیاکبر کی راجپوت بیوی اور سلیم کی ماں)، انار کلیحرم سرائے اکبر کی مظنون نظر کنیز)، ثریاانار کلی کی چھوٹی بہن)، انار کلی کی ماں، دل آراماکبر سے پہلے انار کلی کی مظنون نظر کنیز)، زعفرانحرم سرائے کی ایک شوخ کنیز)، ستارہحرم سرائے کی کنیز، زعفران کی سہیلی)، مروارید اور عنبرحرم سرائے کی کنیزیں، دل آرام کی رازدار) اور خواجہ سرا کا داروغہ شامل ہیں۔ اس منظر کا مقام قلعۂ لاہور اور زمانہ 1599ء کا موسمِ بہار ہے۔ منظر اکبر کی خواب گاہ میں اسی رات، اسی تقریباً وقت پر پیش کیا گیا ہے۔

خواب گاہ کی تفصیل نہایت خوبصورت انداز میں پیش کی گئی ہے — ایک مختصر مگر آراستہ حجرہ، جس کے آسمانی یشت بھری قرمزی محل کا بیش تر حصہ ہے۔ دیواروں پر بھاری پردے ہیں، جن سے ریشم اور باہ کا نقش چھپا ہے۔ ایک طرف خوش دنج داراج محراب ہے، جہاں سے چند تاروں والا آسمان جھلکتا ہے۔ ایرانی قالینوں کے فرش پر ایک بھاری پنگ رکھا ہے جس پر نرم بستر بچھا ہوا ہے۔ کمرے میں دیگر آرائشی اشیا اور قیمتی سامان بھی سجا ہوا ہے۔

منظر کا آغاز رانی اور اکبر کے مکالمے سے ہوتا ہے۔ رانی اکبر سے کہتی ہے کہ اپنی فرمائش پر وہ حرم چھوڑ دیں اور انار کلی کو بھی سلیم کے لیے چھوڑ دیں۔ اکبر جواب دیتا ہے کہ وہ تمھارا مشورہ ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی کے پیدو کی چیزیں چھوڑ دے۔ اس گفتگو میں اولاد، والدین کی امیدیں اور فرائض جیسے موضوعات پر بات ہوتی ہے۔ رانی، اکبر کو سمجھاتی ہے کہ اولاد ماں باپ کی امیدوں کا مرکز ہوتی ہے، جبکہ اکبر اپنی حیثیت اور شہنشاہیت کے تناظر میں اپنی بات رکھتا ہے۔

آگے چل کر اکبر اور رانی کے درمیان انار کلی اور سلیم کی محبت کے موضوع پر گفتگو ہوتی ہے۔ اکبر انار کلی کی محبت کو سلیم کے خواب میں دیکھی گئی ایک شے کے طور پر بیان کرتا ہے، اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اسے اپنی بادشاہت کے وقار اور انصاف کی فکر ہے۔ رانی اس معاملے میں اکبر سے نرمی کی درخواست کرتی ہے، مگر اکبر اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا عندیہ دیتا ہے۔

اس کے بعد منظر میں انار کلی کی ماں کا کردار سامنے آتا ہے، جو اکبر کے سامنے حاضر ہو کر اپنی بیٹی انار کلی کی زندگی کی بھیک مانگتی ہے۔ وہ اکبر کے سامنے التجا کرتی ہے، اپنی بیٹی کو خطاوار قرار دیتے ہوئے بھی رحم کی درخواست کرتی ہے، اور اکبر سے فیصلے میں تاخیر کی درخواست کرتی ہے۔ اکبر اسے سنتا ہے، مگر آخر کار خواجہ سرا کو بلا کر انار کلی کو زندانِ داروغہقید خانے) میں محافظ کے سپرد کر دینے کا حکم دیتا ہے۔

آگے دل آرام کا کردار سامنے آتا ہے، جو انار کلی سے پہلے اکبر کی مظنون نظر کنیز رہ چکی ہے، اور جو انار کلی کے خلاف رقابت کے جذبات رکھتی ہے۔ دل آرام اکبر سے انار کلی اور سلیم کے تعلقات کے بارے میں کچھ باتیں بتاتی ہے، جن سے شبہات کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ سلیم اور انار کلی کے درمیان محبت کا رشتہ موجود ہے، اور اکبر اسے اپنی سلطنت اور اصولوں کے خلاف تصور کرتا ہے۔

آخر میں داروغہ زنداںقید خانے کا افسر) اکبر کے سامنے حاضر ہو کر ایک الم ناک داستان سناتا ہے کہ کس طرح شہزادہ سلیم نے بزور شمشیر انار کلی کو زنداں سے نکالنے کی کوشش کی، اور کیسے دونوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد انار کلی کو دوبارہ اپنی حراست میں لے لیا گیا۔ اکبر یہ سن کر شدید غضب ناک ہوتا ہے اور سلیم کی اس بغاوت پر شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس میں وہ ہندوستان کی تخت و سلطنت پر لرزہ طاری ہونے، اپنے خون کے خلاف اس ترغیب کو کوسنے اور شہنشاہت کے وقار کی حفاظت کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ منظر انتہائی جذباتی اور تناؤ سے بھرپور موڑ پر ختم ہوتا ہے، جہاں اکبر غصے کی حالت میں بلند آواز میں بولتا ہوا بے ہوشی کی حالت میں مسند پر گر پڑتا ہے۔

الف) آغا حشر کاشمیریب) امتیاز علی تاجج) سعادت حسن منٹود) راجندر سنگھ بیدی

الف) دہلیب) لکھنؤج) لاہورد) کراچی

الف) 1910ءب) 1922ءج) 1930ءد) 1935ء

الف) سلور کنگب) چچا چھکنج) رستم و سہرابد) اندر سبھا

الف) جلال الدین محمد اکبرب) نور الدین جہانگیرج) شہاب الدین شاہ جہاںد) بابر

الف) انار کلی کیب) سلیم کیج) ثریا کید) دل آرام کی

الف) زعفرانب) ستارہج) ثریاد) مروارید

الف) انار کلی کی بہنب) اکبر سے پہلے کی مظنون نظر کنیزج) رانی کی سہیلید) خواجہ سرا کی بیٹی

الف) قلعۂ آگرہب) قلعۂ دہلیج) قلعۂ لاہورد) قلعۂ فتح پور سیکری

الف) رشوت دیب) بزور شمشیر کوشش کیج) خط لکھاد) داروغہ کو منایا

جوا ب ۔ ڈراما “انار کلی” کے خالق امتیاز علی تاج ہیں۔

جوا ب ۔ آغا حشر کاشمیری، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، ابراہیم جلیس اور عصمت چغتائی۔

جوا ب ۔ شہزادہ سلیم کے والد کا اصل نام جلال الدین محمد اکبر تھا۔

جوا ب ۔ دل آرام حرم سرائے کی ایک کنیز تھی، جو انار کلی سے پہلے اکبر کی مظنون نظر کنیز رہ چکی تھی۔

جوا ب ۔ یہ بات رانی نے اکبر سے کہی۔

جوا ب ۔ اقتباس میں “انار کلی” ہی نام استعمال ہوا ہے، جو حرم سرائے اکبر کی کنیز کا نام تھا۔

جوا ب ۔ انار کلی کی بہن کا نام ثریا تھا۔

جوا ب ۔ یہ ڈراما 1922ء میں لاہور میں لکھا گیا، اور اس کی اشاعت اس کے تقریباً دس برس بعد ہوئی۔

جوا ب ۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر، شہزادہ سلیم اور انار کلی۔

جوا ب ۔ یہ بات اکبر نے کہی، جب وہ سلیم اور انار کلی کی محبت پر تبصرہ کر رہا تھا۔

جوا ب ۔ یہ بات رانی نے اکبر سے کہی۔

جوا ب ۔ اکبر نے یہ بات اپنے بیٹے شہزادہ سلیم کے بارے میں کہی، جو انار کلی کی محبت میں باپ کی مخالفت پر تلا ہوا تھا۔

جوا ب ۔ اکبر سلیم کو ایک لائق اور باوقار ولی عہد اور مستقبل کا حکمران دیکھنا چاہتا تھا، جو سلطنت کی عظمت اور اصولوں کا پاسدار ہو، نہ کہ ایک کنیز کی محبت میں گرفتار عاشق۔

لفظضد
ویرانآباد
فتحشکست
ارزاںگراں
سستامہنگا
موتزندگی
سختینرمی
مشکلآسان
گناہثواب
حقباطل
جہنمجنت

جواب ۔ دل آرام خود کبھی اکبر کی مظنون نظر کنیز رہ چکی تھی، مگر جب انار کلی کو اکبر کی توجہ حاصل ہوئی تو دل آرام کے دل میں رقابت اور حسد کا جذبہ پیدا ہو گیا، اسی لیے وہ انار کلی کو ناپسند کرتی تھی۔

جواب ۔ اکبر اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ ایک طرف اسے اپنی سلطنت کا وقار اور اصول عزیز ہیں، دوسری طرف اپنے بیٹے سلیم کی محبت اور اس کی خوشی کی فکر بھی ہے۔ سلیم کا ایک کنیز سے عشق اور اس کی بغاوت نے اکبر کو شدید ذہنی الجھن اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔

جواب ۔ رانی نے اکبر سے کہا کہ اولاد ماں باپ کی امیدوں کا مرکز ہوتی ہے، اور ان کی خوشی میں ہی والدین کی خوشی مضمر ہے۔ اس نے اکبر سے درخواست کی کہ وہ سلیم کے لیے انار کلی کو چھوڑ دے اور نرمی سے کام لے۔

جواب ۔ انار کلی کی ماں جب اکبر کے سامنے اپنی بیٹی کی زندگی کی بھیک مانگتی ہے، تو اکبر اس کی التجا سنتا تو ہے، مگر آخرکار اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے خواجہ سرا کو بلا کر انار کلی کو زندان میں محافظ کے سپرد کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔

جواب ۔ اکبر اس ڈرامے میں ایک ایسے حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ایک طرف طاقتور اور باوقار شہنشاہ ہے، تو دوسری طرف ایک باپ کے جذبات بھی رکھتا ہے۔ وہ اپنی سلطنت کے اصولوں اور انصاف کا سختی سے پاسدار ہے، اور اپنے بیٹے سلیم کی محبت کو سلطنت کے وقار کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اکبر کا کردار کشمکش کا شکار نظر آتا ہے — ذاتی جذبات اور شاہی فرائض کے درمیان — اور آخرکار وہ فرض اور اصول کو ذاتی محبت پر ترجیح دیتا ہے، جو اس کے کردار کی سختی اور عظمت دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔

جواب ۔ یہ اقتباس نہایت جذباتی اور دلچسپ ہے، کیونکہ اس میں محبت، اقتدار، ماں باپ کے جذبات اور فرض جیسے موضوعات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ مکالمے پُر تاثیر اور ڈرامائی تناؤ سے بھرپور ہیں۔ اکبر اور رانی کی گفتگو، انار کلی کی ماں کی التجا، اور آخر میں داروغہ زنداں کی روداد، سب مل کر ایک ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جو قاری یا ناظر کو آخر تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔

جواب ۔ سلیم کی ماں یعنی رانی ایک شاہی حیثیت کی حامل خاتون ہے، جو اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے اکبر کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے، مگر بادشاہ کی حیثیت اور اقتدار میں براہ راست دخل نہیں دے سکتی۔ اس کے برعکس انار کلی کی ماں ایک عام حیثیت کی خاتون ہے، جو اپنی بیٹی کی جان بچانے کے لیے اکبر کے سامنے براہ راست عاجزی اور آنسوؤں سے بھری التجا کرتی ہے۔ دونوں مائیں اپنی اولاد سے محبت میں یکساں ہیں، مگر ان کی حیثیت اور اظہار کا انداز مختلف ہے۔

جواب ۔ یہ ڈراما بنیادی طور پر انار کلی کے کردار کا المیہ ہے، کیونکہ اسے شہنشاہ کے بیٹے سے محبت کرنے کی سزا زندان اور موت کی صورت میں بھگتنی پڑتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ اکبر کا بھی المیہ ہے، جو ایک باپ ہونے کے باوجود اپنی شاہی ذمہ داریوں کے سامنے اپنے بیٹے کی خوشی کو قربان کرنے پر مجبور ہے، اور سلیم کا بھی المیہ ہے، جو اپنی محبت کے لیے باپ اور سلطنت دونوں کے خلاف بغاوت پر اتر آتا ہے۔

جواب ۔ تصادم سے مراد کرداروں کے درمیان نظریات، جذبات یا مفادات کا ٹکراؤ ہے، جو ڈرامے کی کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس ڈرامے میں کئی تصادمات نظر آتے ہیں۔ اکبر اور سلیم کے درمیان تصادمشاہی فرض بمقابلہ ذاتی محبت)، اکبر اور رانی کے درمیان تصادمسختی بمقابلہ نرمی)، اور دل آرام اور انار کلی کے درمیان تصادمرقابت اور حسد)۔ یہ تمام تصادمات مل کر ڈرامے میں ڈرامائیت اور کشش پیدا کرتے ہیں۔

جواب ۔ اس اقتباس کے مطابق، سلیم اور انار کلی کی محبت کو اکبر سلطنت کے وقار کے خلاف سمجھتا ہے۔ سلیم نے بزور شمشیر انار کلی کو زندان سے نکالنے کی کوشش کی، مگر یہ کوشش ناکام ہو گئی اور انار کلی دوبارہ قید میں ڈال دی گئی۔ اکبر اس بغاوت پر شدید غضب ناک ہوتا ہے اور سلیم کے خلاف سخت اقدام کا عندیہ دیتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی محبت کا انجام الم ناک اور تکلیف دہ ہونے والا ہے۔

جواب ۔ دل آرام، جو خود اکبر کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھی، نے انار کلی کے خلاف اکبر کے ذہن میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس نے سلیم اور انار کلی کے تعلقات کے بارے میں اکبر کو ایسی باتیں بتائیں جن سے اکبر کے شبہات کو مزید تقویت ملی، تاکہ انار کلی کو سزا مل سکے اور دل آرام کا راستہ صاف ہو جائے۔

الف) آغا حشر کاشمیریب) امتیاز علی تاجج) سعادت حسن منٹود) راجندر سنگھ بیدی

الف) دہلیب) لکھنؤج) لاہورد) کراچی

الف) 1910ءب) 1922ءج) 1930ءد) 1935ء

الف) سلور کنگب) چچا چھکنج) رستم و سہرابد) اندر سبھا

الف) جلال الدین محمد اکبرب) نور الدین جہانگیرج) شہاب الدین شاہ جہاںد) بابر

الف) انار کلی کیب) سلیم کیج) ثریا کید) دل آرام کی

الف) زعفرانب) ستارہج) ثریاد) مروارید

الف) انار کلی کی بہنب) اکبر سے پہلے کی مظنون نظر کنیزج) رانی کی سہیلید) خواجہ سرا کی بیٹی

الف) قلعۂ آگرہب) قلعۂ دہلیج) قلعۂ لاہورد) قلعۂ فتح پور سیکری

الف) رشوت دیب) بزور شمشیر کوشش کیج) خط لکھاد) داروغہ کو منایا

Explore the complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 12 Solutions – Drama (Anarkali / انار کلی) by Imtiaz Ali Taj. This guide includes the history of Urdu drama, the author’s biography, an easy summary, MCQs, short and long questions with answers, character analysis, important vocabulary, and Bihar Board exam-oriented notes in simple Urdu. Ideal study material for BSEB Class 11 Urdu students.