Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 3 Solutions, Ashfaqullah Khan, اشفاق اللہ خاں

اشفاق اللہ خاں 22 اکتوبر 1900ء کو شاہجہاں پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے وہ وطن کی محبت، آزادی کے جذبے اور انقلابی خیالات سے متاثر تھے۔ انھوں نے شاعری بھی کی اور “حسرت” تخلص اختیار کیا۔

وہ انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن کے رکن بنے اور انگریز حکومت کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لیا۔ 9 اگست 1925ء کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کاکوری ٹرین ایکشن میں سرکاری خزانہ لوٹنے میں شریک ہوئے تاکہ انقلابی تحریک کے لیے مالی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔

اس واقعے کے بعد وہ کچھ عرصہ روپوش رہے، مگر ستمبر 1926ء میں دہلی سے گرفتار کر لیے گئے۔ مقدمہ چلنے کے بعد 19 دسمبر 1927ء کو انھیں پھانسی دے دی گئی۔

اشفاق اللہ خاں نے اپنی جان وطن کی آزادی کے لیے قربان کر دی۔ وہ ہندوستان کی جنگِ آزادی کے عظیم مجاہد، بے مثال محبِ وطن اور بہادر انقلابی تھے، جن کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اشفاق اللہ خاں نے یہ خط 15 دسمبر 1927ء کو فیض آباد جیل کی پھانسی کی کوٹھری سے اپنی والدہ کے نام لکھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی والدہ، بھائیوں اور اہلِ خانہ کو صبر، استقامت اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی تلقین کی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر انسان کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے جانا ہے۔ ان کی پھانسی بھی اللہ کی مشیت کے مطابق ہے، اس لیے اس پر شکوہ یا بے صبری نہیں کرنی چاہیے۔ وہ اپنی والدہ کو یاد دلاتے ہیں کہ اولاد اللہ کی امانت ہوتی ہے، اور جب اللہ اپنی امانت واپس لے تو صبر و شکر سے کام لینا چاہیے۔

اشفاق اللہ خاں اپنی زندگی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے مغفرت اور اپنے عزیزوں سے معافی کے طلبگار ہیں۔ وہ سب سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے لیے رونے اور ماتم کرنے کے بجائے دعا، قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کریں تاکہ انہیں آخرت میں فائدہ پہنچے۔

وہ دنیا کی بے ثباتی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ خوشی اور غم، زندگی اور موت سب اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں۔ کامیاب وہی شخص ہے جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرے، صبر اختیار کرے اور نیکی کے راستے پر قائم رہے۔

آخر میں وہ اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپس میں محبت اور اتفاق سے رہیں، اپنی بوڑھی والدہ کی خدمت کریں اور ان کا سہارا بنیں۔ وہ اپنے اہلِ خانہ کو اللہ کے سپرد کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور انہیں اپنی رحمت میں جگہ دے۔

یہ خط اشفاق اللہ خاں کے مضبوط ایمان، اللہ پر کامل بھروسے، والدہ سے بے پناہ محبت، اعلیٰ اخلاق، صبر و رضا اور وطن کے لیے عظیم قربانی کے جذبے کا ایک لازوال نمونہ ہے۔

الف) 22 اکتوبر 1900ء
ب) 15 اگست 1901ء
ج) 19 دسمبر 1927ء
د) 9 اگست 1925ء

الف) فراق
ب) حسرت
ج) جوش
د) وارث

الف) انڈین نیشنل کانگریس
ب) مسلم لیگ
ج) انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن
د) آزاد ہند فوج

الف) 1923ء
ب) 1924ء
ج) 1925ء
د) 1927ء

الف) 15 دسمبر 1927ء
ب) 19 دسمبر 1927ء
ج) 26 جنوری 1928ء
د) 23 مارچ 1931ء

الف) اپنے بھائی کے نام
ب) اپنے دوست کے نام
ج) اپنی والدہ کے نام
د) اپنے استاد کے نام

الف) دولت جمع کرنے کی
ب) صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کی
ج) بیرونِ ملک جانے کی
د) تجارت کرنے کی

الف) حکومت کی
ب) خاندان کی
ج) اللہ تعالیٰ کی
د) معاشرے کی

الف) ماتم کرنے کی
ب) بدلہ لینے کی
ج) دعا اور ایصالِ ثواب کرنے کی
د) جلسے منعقد کرنے کی

الف) الگ الگ رہنے کی
ب) آپس میں جھگڑا کرنے کی
ج) بیرونِ ملک جانے کی
د) آپس میں محبت سے رہنے اور والدہ کی خدمت کرنے کی

جواب 1۔ الف) 22 اکتوبر 1900ء
جواب 2۔ ب) حسرت
جواب 3۔ ج) انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن
جواب 4۔ ج) 1925ء
جواب 5۔ ب) 19 دسمبر 1927ء
جواب 6۔ ج) اپنی والدہ کے نام
جواب 7۔ ب) صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کی
جواب 8۔ ج) اللہ تعالیٰ کی
جواب 9۔ ج) دعا اور ایصالِ ثواب کرنے کی
جواب 10۔ د) آپس میں محبت سے رہنے اور والدہ کی خدمت کرنے کی

جواب ۔  اشفاق اللہ خاں کی پیدائش 22 اکتوبر 1900ء کو شاہجہاں پور (اتر پردیش) میں ہوئی، جبکہ 19 دسمبر 1927ء کو فیض آباد جیل میں انہیں پھانسی دی گئی۔

جواب ۔  ان کے والد کا نام محمد شفیق اللہ خاں اور والدہ کا نام مظہر النسا تھا۔

جواب ۔  اشفاق اللہ خاں کے تعلقات بنارسی لال اور پنڈت رام پرشاد بسمل سے قائم ہوئے، جن کی صحبت نے ان میں وطن پرستی کا جذبہ مزید مضبوط کیا۔

جواب ۔  سرکاری خزانے کو لوٹنے کے وقت اشفاق اللہ خاں کے ساتھ نو (9) ساتھی تھے۔

جواب ۔  اشفاق اللہ خاں نے اپنی پھانسی سے چار (4) دن پہلے یعنی 15 دسمبر 1927ء کو اپنی والدہ کے نام خط لکھا۔

جواب ۔  نہیں۔ اشفاق اللہ خاں نے ایک کتاب لکھنی شروع کی تھی، مگر وہ تکمیل کو نہ پہنچ سکی۔

جواب ۔  یہ مکتوب اشفاق اللہ خاں وارثی نے اپنی والدہ، مظہر النسا کے نام لکھا ہے۔

جواب ۔  مکتوب نگار نے اپنے سب عزیزوں سے صبر کرنے، اللہ کی رضا پر راضی رہنے، آپس میں محبت و اتفاق سے رہنے، اپنی والدہ کی خدمت کرنے، اور ان کے لیے دعا و ایصالِ ثواب کرنے کی گزارش کی ہے۔

جمعواحد
اعزّہعزیز
اقرباقریب
احبابحبیب
خزائنخزانہ
تکالیفتکلیف
قیودقید
مصائبمصیبت
اعداعدو
برکاتبرکت
اسبابسبب
دلائلدلیل
حقوقحق

اشفاق اللہ خاں نے خط کی ابتدا اس شعر سے کی ہے ۔

فنا ہے سب کے لیے ہم پر کچھ نہیں موقوف
بقا ہے ایک فقط ذاتِ کبریا کے لیے

اس شعر میں وہ زندگی اور موت کی ایک اٹل حقیقت بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس دنیا میں ہر جاندار کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ کوئی انسان ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اس لیے انسان کو موت سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ اشفاق اللہ خاں اپنی والدہ کو بھی یہی پیغام دیتے ہیں کہ ان کی موت پر زیادہ غم نہ کریں، کیونکہ موت اللہ کا اٹل فیصلہ ہے اور ہر انسان کو ایک دن اسی کے حضور حاضر ہونا ہے۔

اشفاق اللہ خاں جانتے تھے کہ ان کی پھانسی کی خبر ان کی والدہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوگی۔ اسی لیے انہوں نے پورے خط میں بار بار صبر اور شکر کی تلقین کی۔ ان کا مقصد تھا کہ ان کی والدہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کریں، بے صبری، آہ و زاری اور شکوہ نہ کریں، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ وہ انہیں یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ اولاد اللہ کی امانت ہوتی ہے، جب اللہ اپنی امانت واپس لے تو اس پر راضی رہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی والدہ ان کے لیے دعا کریں، ایصالِ ثواب کریں اور اپنی باقی زندگی عبادت اور اللہ کی یاد میں گزاریں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہو۔

اشفاق اللہ خاں کی خوشی کی سب سے بڑی وجہ ان کا مضبوط ایمان اور وطن سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ موت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حقیقت ہے اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ وہ اپنی شہادت کو اللہ کی رضا اور وطن کی آزادی کے لیے ایک عظیم قربانی سمجھتے تھے۔ انہیں اس بات کا بھی اطمینان تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی ایک مقدس مقصد کے لیے وقف کی ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور اللہ کے ہاں بلند مقام پاتے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنی آخری گھڑیوں میں بھی خوف زدہ ہونے کے بجائے مطمئن، پُرسکون اور خوش نظر آتے ہیں۔

اشفاق اللہ خاں نے اپنے خط میں اسلامی تاریخ اور انبیائے کرام کی زندگی سے کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ اسی طرح چند اہم اصطلاحیں درج ذیل ہیں ۔

گریۂ یعقوب ۔
حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ کی جدائی میں بہت گریہ کیا، اسی لیے شدید غم اور جدائی کے رونے کو “گریۂ یعقوب” کہا جاتا ہے۔

سُنتِ یوسفی ۔
حضرت یوسفؑ نے ظلم، قید اور آزمائشوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔ مصیبت میں صبر کرنا سنتِ یوسفی کہلاتا ہے۔

صبرِ ایوب ۔
حضرت ایوبؑ نے شدید بیماری اور مشکلات کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا۔ ہر بڑی مصیبت میں صبر کرنا صبرِ ایوب کہلاتا ہے۔

سنتِ ابراہیمی ۔
حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کی قربانی دینے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینا سنتِ ابراہیمی کہلاتا ہے۔

شہادتِ حسینی ۔
حضرت امام حسینؓ نے حق و انصاف کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اور حق کے لیے قربانی دینا شہادتِ حسینی کہلاتا ہے۔

اشفاق اللہ خاں ہندوستان کی آزادی کے عظیم انقلابی تھے۔ وہ انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن کے رکن تھے، جس کا مقصد انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ انقلابی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی غرض سے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ 9 اگست 1925ء کو کاکوری کے مقام پر سرکاری خزانے سے بھری ٹرین کو لوٹا۔ اس واقعے کے بعد انگریزی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں حکومت کے خلاف بغاوت، انقلابی سرگرمیوں اور کاکوری سازش میں حصہ لینے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ چنانچہ 19 دسمبر 1927ء کو فیض آباد جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر کے شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کیا۔

اشفاق اللہ خاں کا یہ خط ان کی بلند شخصیت اور عظیم کردار کا آئینہ دار ہے۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت بہادر، نڈر، صابر، باایمان اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے انسان تھے۔ انہیں اپنی موت کا کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ اسے اللہ کا فیصلہ سمجھ کر خوش دلی سے قبول کر رہے تھے۔

ان کے اندر والدہ سے بے پناہ محبت، اہلِ خانہ کی خیرخواہی اور دوسروں کے لیے دردِ دل موجود تھا۔ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، سب سے معافی مانگتے ہیں اور اپنے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں، جس سے ان کی عاجزی اور انکساری ظاہر ہوتی ہے۔

اس خط سے ان کی حب الوطنی، ایثار، قربانی، اعلیٰ اخلاق، صبر و استقامت، دینی شعور، عبادت گزاری اور مضبوط ایمان بھی نمایاں ہوتا ہے۔ یہی اوصاف انہیں ہندوستان کی جنگِ آزادی کے عظیم شہداء میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔

اشفاق اللہ خاں کو شہیدِ وطن اس لیے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ہندوستان کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ وہ انگریز حکومت کے ظلم و استبداد کے خلاف سرگرمِ عمل رہے اور انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن کے رکن بن کر آزادی کی تحریک میں حصہ لیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کاکوری ٹرین ایکشن میں حصہ لیا تاکہ انقلابی تحریک کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ اس جرم میں انہیں گرفتار کیا گیا، مقدمہ چلایا گیا اور 19 دسمبر 1927ء کو پھانسی دے دی گئی۔ انہوں نے اپنی جان وطن کی آزادی کے لیے قربان کر دی، اسی لیے انہیں شہیدِ وطن کہا جاتا ہے۔ ان کی قربانی آج بھی حب الوطنی، بہادری اور ایثار کی روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔

اشفاق اللہ خاں نے اپنی پھانسی سے چند روز قبل اپنی والدہ کو یہ خط اس لیے لکھا تاکہ انہیں اپنی موت کی خبر خود دے سکیں اور ان کے غم کو کم کر سکیں۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی شہادت کا صدمہ ان کی والدہ کے لیے بہت بڑا ہوگا، اس لیے انہوں نے انہیں صبر، شکر اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے والدہ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی، اپنے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ وہ رونے دھونے کے بجائے عبادت اور دعا میں مشغول رہیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کو بھی نصیحت کی کہ وہ والدہ کی خدمت کریں، آپس میں محبت سے رہیں اور خاندان میں اتحاد قائم رکھیں۔

اس خط میں اشفاق اللہ خاں نے کئی اہم نکات بیان کیے ہیں، جن میں درج ذیل نمایاں ہیں ۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر انسان کو ایک دن دنیا سے جانا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا اور ہر حال میں صبر و شکر اختیار کرنا چاہیے۔

اولاد اللہ کی امانت ہے، اس لیے اس کے واپس لینے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنی والدہ، بھائیوں اور تمام اہلِ خانہ کو صبر و استقامت کی تلقین کی۔

اپنی زندگی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سب سے معافی اور دعائے مغفرت کی درخواست کی۔

اہلِ خانہ سے کہا کہ ان کے لیے دعا، قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کریں۔

دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی تیاری پر زور دیا۔

بھائیوں کو نصیحت کی کہ آپس میں محبت اور اتفاق سے رہیں اور والدہ کی خدمت کریں۔

اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے اور ہر حال میں اس کی رضا کو قبول کرنے کی تعلیم دی۔

اپنی شہادت کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور وطن کی خدمت کا ذریعہ قرار دیا۔

اشفاق اللہ خاں نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ زندگی اور موت دونوں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ انسان اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آیا بلکہ ایک دن اسے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ دنیا عارضی ہے جبکہ آخرت ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موت سے گھبرانے کے بجائے اس کی تیاری کرنی چاہیے اور نیک اعمال اختیار کرنے چاہئیں۔ ان کے نزدیک خوش نصیب وہ شخص ہے جو اللہ کی عبادت کرے، اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرے، مصیبت میں صبر کرے اور اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنی موت کو اللہ کا فیصلہ سمجھ کر خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے دل میں کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔

اس خط کو پڑھنے کے بعد اشفاق اللہ خاں کی ایک عظیم، باکردار اور باایمان شخصیت سامنے آتی ہے۔ وہ نہایت بہادر، نڈر، محبِ وطن، صابر، اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھنے والے، والدہ کے فرمانبردار اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ انہیں اپنی موت کا کوئی خوف نہیں تھا بلکہ وہ اسے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کر رہے تھے۔ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، سب سے معافی مانگتے ہیں اور اپنے لیے دعائے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں، جس سے ان کی عاجزی اور انکساری ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے کردار میں حب الوطنی، قربانی، ایثار، صبر، شکر، اخلاص اور دینی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔

اشفاق اللہ خاں اور ان کے ساتھیوں کا مقصد اپنے وطن کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانا تھا، جو ایک عظیم قومی مقصد تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی خواہشات یا فائدے کے لیے نہیں بلکہ ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔ اسی وجہ سے آج انہیں قومی ہیرو اور شہیدِ وطن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آزادی حاصل کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ بعض رہنما، جیسے مہاتما گاندھی، عدم تشدد کے ذریعے جدوجہد کے قائل تھے، جبکہ اشفاق اللہ خاں اور ان کے ساتھی انقلابی راستہ اختیار کرتے تھے۔ لیکن ان کی حب الوطنی، اخلاص، قربانی اور آزادی کے لیے جذبے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ہم رضا کار ہیں ہم پر ہے بہر حال یہ فرض
شکرِ حق لب پہ رہے، شکوۂ اعدا نہ کریں
مان لیں فیصلۂ دوست کو بے چون و چرا
فکرِ امروز ہی رکھیں، غمِ فردا نہ کریں

ان اشعار میں اشفاق اللہ خاں اللہ تعالیٰ کی رضا پر مکمل اعتماد اور یقین کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سچے مسلمان کا فرض ہے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرے اور دشمنوں سے شکایت کرنے کے بجائے اللہ کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرے۔ انسان کو مستقبل کی بے جا فکر میں مبتلا ہونے کے بجائے موجودہ وقت میں نیک اعمال کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ جو فیصلہ کرتا ہے، وہ انسان کی بھلائی کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اس کے فیصلے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

یہ اشعار اشفاق اللہ خاں کی پوری زندگی کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہر مشکل اور آزمائش کو اللہ کی رضا سمجھ کر برداشت کیا۔ گرفتاری، مقدمہ اور سزائے موت کے باوجود انہوں نے نہ گھبراہٹ ظاہر کی، نہ دشمنوں سے نفرت کا اظہار کیا اور نہ ہی اللہ کے فیصلے پر شکوہ کیا۔ وہ اپنی شہادت کو اللہ کی رضا اور وطن کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پھانسی سے پہلے بھی مطمئن، پُرسکون اور اللہ کے شکر گزار تھے۔ ان کی عملی زندگی انہی اشعار کی بہترین تفسیر اور مثال ہے۔

This post provides complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 3 solutions on Ashfaqullah Khan (Shaheed). It includes a concise biography, a comprehensive summary of “Letter to Mother from Jail”, objective questions with answers, short and detailed question-answer solutions, singular forms of important Urdu words, and easy explanations of key topics. These well-structured notes are designed to help students prepare effectively for exams and gain a deeper understanding of Ashfaqullah Khan’s life, patriotism, sacrifice, and inspiring message.