Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 4 Solutions Roshni, روشنی

مختصر افسانہ فکشن کی ایک مختصر مگر مؤثر صنف ہے، جس میں زندگی کے کسی ایک اہم واقعے یا پہلو کو اختصار اور ایجاز کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں پلاٹ، کردار، زمان و مکان، نقطۂ عروج اور وحدتِ تاثر جیسے تمام بنیادی عناصر موجود ہوتے ہیں۔

اردو میں مختصر افسانے کی ابتدا سجاد حیدر یلدرم نے کی۔ ان کا پہلا افسانہ “نشے کی پہلی ترنگ” 1900ء میں شائع ہوا۔ بعد میں پریم چند نے افسانے کو حقیقت نگاری، سماجی مسائل اور سادہ زبان کے ذریعے نئی سمت دی، جس سے اردو افسانے کو بہت ترقی ملی۔ ترقی پسند تحریک کے دور میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی اور دیگر افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کو مزید وسعت دی۔ بعد میں جدیدیت کے دور میں علامتی افسانے لکھے گئے، جبکہ 1970ء کے بعد دوبارہ روایتی بیانیے کو اہمیت دی گئی۔ 1980ء کے بعد غزال ضیغم اور ترنم ریاض جیسی خواتین افسانہ نگاروں نے بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

مختصر افسانے کی عمر اگرچہ تقریباً ایک صدی ہے، لیکن اس نے اردو ادب میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور آج بھی پریم چند کی سادہ، مؤثر اور حقیقت پسندانہ اسلوبِ نگارش افسانہ نگاروں کے لیے بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔

پریم چند اردو اور ہندی کے عظیم افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ ان کی پیدائش 31 جولائی 1880ء کو بنارس کے قریب لمہی گاؤں میں ہوئی۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا اور ابتدائی قلمی نام نواب رائے تھا۔ کم عمری ہی میں والدہ اور بعد میں والد کے انتقال کے باعث انہیں سخت معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ٹیوشن پڑھا کر تعلیم جاری رکھی اور بعد میں سرکاری ملازمت اختیار کی۔1919ء میں جلیاں والا باغ کے سانحے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت سے استعفا دے دیا۔ بنارس میں سرسوتی پریس قائم کیا، ہنس رسالہ اور جاگرن اخبار جاری کیے۔ 1936ء میں ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کی صدارت کی۔ 8 اکتوبر 1936ء کو ان کا انتقال ہوا۔

پریم چند نے افسانے، ناول، ڈرامے اور مضامین لکھے۔ ان کے مشہور افسانوی مجموعوں میں سوزِ وطن، پریم بتیسی، آخری تحفہ، زادِ راہ اور واردات شامل ہیں، جبکہ بازارِ حسن، میدانِ عمل، گؤدان اور دیگر ناول بہت مشہور ہیں۔ گؤدان اردو ادب کے اہم ترین ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔

پریم چند گاندھیائی فکر سے متاثر تھے۔ انہوں نے دیہی زندگی، سماجی مسائل، غریبوں کی حالت، جاگیردارانہ ظلم اور معاشرتی ناانصافی کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ ان کی سادہ، حقیقت پسندانہ اور اصلاحی تحریریں آج بھی اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور انہیں اردو افسانے کا سب سے بڑا معمار مانا جاتا ہے۔

آپ کی بات بالکل درست ہے۔ میں نے “روحانی تبدیلی” کا لفظ استعمال کر کے متن سے آگے کی تشریح کر دی، جبکہ آپ نے خاص طور پر کہا تھا کہ بغیر کسی تبدیلی کے خلاصہ چاہیے۔ افسانے میں کہیں بھی روحانیت یا روحانی تجربے کا ذکر نہیں ہے۔

روشنی پریم چند کا ایک مختصر افسانہ ہے، جس میں ایک سرکاری افسر کی سوچ اور کردار میں آنے والی تبدیلی کو بیان کیا گیا ہے۔

افسانے کا راوی آئی۔ایس۔ پاس کرکے ہندستان آتا ہے اور ایک کوہستانی علاقے میں سب ڈویژن کا چارج سنبھالتا ہے۔ ایک روز لندھوار کے تھانے کا معائنہ کرنے کے بعد گجن پور جاتے ہوئے وہ شدید آندھی میں پھنس جاتا ہے۔ اسی دوران وہ ایک غریب دیہاتی عورت کو دیکھتا ہے جو اپنے چھوٹے بچوں کی فکر میں بے خوفی سے اپنے گاؤں جا رہی ہوتی ہے۔ عورت بتاتی ہے کہ اس کے شوہر کو چھے مہینے پہلے وفات ہو چکی ہے اور وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہے۔

افسر عورت کی خودداری سے متاثر ہو کر بچوں کے لیے پانچ روپے دینا چاہتا ہے، لیکن عورت یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیتی ہے کہ “میں غریب ہوں لیکن بھکارن نہیں ہوں۔” اس کی خودداری، فرض شناسی اور عزتِ نفس افسر کی سوچ بدل دیتی ہے۔

اس کے بعد گجن پور کے قریب ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ راستے میں ایک اندھا شخص ندی میں گر جاتا ہے۔ افسر اپنی جان کی پروا کیے بغیر اسے پانی سے نکال کر اس کی جان بچاتا ہے۔ اندھا اس سے پوچھتا ہے کہ اس کے سر پر کس دیوتا کا سایہ ہے، تو افسر جواب دیتا ہے کہ “ایک دیوی کا سایہ ہے۔” اس کا اشارہ اسی دیہاتی عورت کی طرف ہوتا ہے، جس کے کردار نے اس کے دل میں انسانیت، خودداری اور خدمتِ خلق کا نیا احساس پیدا کیا تھا۔

افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حقیقی عظمت دولت یا اعلیٰ تعلیم میں نہیں بلکہ خودداری، فرض شناسی، ہمت اور انسانیت میں ہے، اور یہی صفات انسان کی زندگی میں اصل روشنی پیدا کرتی ہیں۔

جواب ۔  “پریم بتیسی سے ماخوذ ہے۔

جواب ۔  گھوڑے پر۔

جواب ۔  کیونکہ وہ خوددار تھی۔ اس نے کہا ۔  “میں غریب ہوں لیکن بھکارن نہیں ہوں۔

جواب ۔  آئی۔سی۔ایس۔ افسر نے۔

جواب ۔  اس نے خودداری، فرض شناسی، ہمت، انسانیت اور خدمتِ خلق کا سبق سیکھا۔

جواب ۔  کیونکہ بیوہ عورت کے کردار نے افسر کی سوچ بدل دی اور اسے انسانیت، خودداری اور نیکی کی اصل روشنی ملی۔

جواب ۔  دھنپت رائے۔

جواب ۔  لمہی گاؤں، بنارس کے قریب۔

جواب ۔  دو بچے تھے۔

جواب ۔  دہقانی (بیوہ) عورت کی انسانیت سے۔

تاریکی ۔  تاریکی میں راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

برہنہ ۔  برہنہ جسم سردی برداشت نہیں کر سکتا۔

ژالہ ۔  ژالہ باری سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔

شجر ۔  شجر ہمیں سایہ اور پھل دیتا ہے۔

حریص ۔  حریص آدمی کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔

بوسیدہ ۔  بوسیدہ کپڑے پہننے کے قابل نہیں رہے۔

افق ۔  سورج افق کے پیچھے غروب ہو گیا۔

طوفان ۔  طوفان سے کئی درخت گر گئے۔

رعد ۔  رعد کی آواز سے بچے ڈر گئے۔

ابر ۔  آسمان پر سیاہ ابر چھا گئے۔

شب —  روز

زمین —  آسمان

خوشبو —  بدبو

قریب —  دور

غم —  خوشی

شجر —  حجر

خواب —  بیداری

حق —  باطل

مراد ۔  میری مراد پوری ہوئی۔ (مؤنث)

پیغام ۔  استاد کا پیغام پہنچ گیا۔ (مذکر)

زندگی ۔  زندگی بہت قیمتی ہے۔ (مؤنث)

پانی ۔  پانی ٹھنڈا تھا۔ (مذکر)

افق ۔  افق صاف تھا۔ (مذکر)

آواز ۔  اس کی آواز بہت میٹھی تھی۔ (مؤنث)

عکس ۔  پانی میں میرا عکس صاف نظر آیا۔(مذکر)

نادم ۔  وہ اپنی غلطی پر نادم تھا۔ (مذکر)

میں سے مراد آئی۔سی۔ایس۔ افسر ہے، جو کہانی کا راوی بھی ہے۔ اس کے ذمے اپنے علاقے کے لندھوار کے تھانے کا معائنہ کرنے کے بعد گجن پور کے تھانے کا معائنہ کرنا تھا۔ اسی سرکاری کام کے لیے وہ اپنے بنگلے سے گھوڑے پر روانہ ہوا تھا۔

کہانی کے ایسے حصے کو منظر نگاری (یا فطرت نگاری) کہتے ہیں۔

یہ باتیں آئی۔سی۔ایس۔ افسر نے اس وقت کہیں جب شدید آندھی میں اس نے ایک غریب دیہاتی عورت کو اپنے بچوں کی فکر میں بے خوفی سے جاتے دیکھا۔ افسر نے سوچا کہ عورت کی زندگی میں صرف غربت، محنت اور مشکلات ہیں، اس لیے شاید اسے موت کا بھی خوف نہیں۔ اس کے برعکس وہ خود آرام، عیش اور سہولتوں سے بھرپور زندگی گزار رہا تھا، اس لیے اپنی جان کے بارے میں زیادہ فکر مند تھا۔ بعد میں اسی عورت کی ہمت، خودداری اور فرض شناسی نے اس کی سوچ بدل دی اور اسے احساس ہوا کہ اصل عظمت کردار میں ہے، نہ کہ دولت یا عہدے میں۔

آئی۔سی۔ایس۔ افسر کو یہ روشنی ایک غریب بیوہ عورت کے کردار سے ملی۔ عورت نے سخت غربت کے باوجود خودداری، ہمت، صبر اور فرض شناسی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا اور پانچ روپے لینے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے نے افسر کی سوچ بدل دی۔ اس کے بعد جب اس نے ایک اندھے بوڑھے کو ندی میں گرتے دیکھا تو اپنی جان کی پروا کیے بغیر پانی میں کود کر اسے بچا لیا۔ اس طرح وہ صرف ایک سرکاری افسر نہیں رہا بلکہ ایک سچا انسان بن کر انسانیت کی خدمت کا عملی ثبوت پیش کیا۔

افسانے میں استعمال ہونے والے علاقائی اور دیہی الفاظ یہ ہیں ۔

کھانچی

چوپال

گھاس چھیلنا

جھونپڑی

نمبر دار

بیل

ہل

دہقان

مزرعہ

بور

کھڈ

تھاکر دوارہ

بیوہ عورت اگرچہ غریب اور مجبور تھی، لیکن وہ خوددار تھی۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کی پرورش کرنا چاہتی تھی اور کسی سے بھیک یا احسان لینا پسند نہیں کرتی تھی۔ اسی لیے اس نے کہا ۔  میں غریب ہوں لیکن بھکارن نہیں ہوں۔ وہ اپنے مرحوم شوہر کی عزت اور اپنی عزتِ نفس کو برقرار رکھنا چاہتی تھی، اسی لیے اس نے روپے لینے سے انکار کر دیا۔

افسانہ “روشنی ہمیں انسانیت، خودداری، ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کا پیغام دیتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اصل عظمت اچھے کردار اور نیک اعمال میں ہے۔

افسر لندھوار کے تھانے کا معائنہ کرنے کے بعد گجن پور کے تھانے جا رہا تھا۔

افسر نے انسانیت اور ہمدردی کے جذبے سے اپنی جان کی پروا کیے بغیر اندھے بوڑھے کو ندی میں ڈوبنے سے بچایا۔

افسر نے عورت کی غربت اور اس کے بچوں کی ضرورت کو دیکھ کر بچوں کی مٹھائی کے لیے پانچ روپے دیے، لیکن عورت نے اپنی خودداری کی وجہ سے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ میں غریب ہوں لیکن بھکارن نہیں ہوں۔

افسانہ “روشنی” کا مرکزی کردار ایک آئی۔سی۔ایس۔ افسر ہے، جسے شکار کا بہت شوق تھا۔ وہ ایک کوہستانی علاقے میں تعینات تھا، جہاں شکار کی فراوانی تھی۔ فرصت کے اوقات میں وہ سیر و شکار کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے اخبارات اور رسائل پڑھنے کا بھی بے حد شوق تھا۔ امریکہ اور یورپ کے کئی اخبار اور رسائل اس کے پاس آتے تھے، جن کے مضامین سے وہ بہت متاثر تھا۔ وہ مغربی تہذیب اور ترقی کو پسند کرتا تھا اور یہی خواہش رکھتا تھا کہ ہندوستان میں بھی ایسے اعلیٰ معیار کے رسائل شائع ہوں۔ ابتدا میں وہ دیہاتی لوگوں کو جاہل اور پسماندہ سمجھتا تھا، لیکن بعد میں ایک دیہاتی عورت کے کردار نے اس کی سوچ بدل دی۔

افسر ایک شدید آندھی کے دوران ایک غریب بیوہ عورت سے ملا۔ عورت کے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ محنت مزدوری کرکے اپنے دو بچوں کی پرورش کر رہی تھی۔ سخت آندھی اور خطرناک حالات کے باوجود وہ اپنے بچوں کی فکر میں گھر جا رہی تھی۔ جب افسر نے اس کی غربت دیکھ کر بچوں کے لیے پانچ روپے دینے چاہے تو اس نے نہایت خودداری سے انکار کرتے ہوئے کہا، “میں غریب ہوں لیکن بھکارن نہیں ہوں۔” اس کے صبر، ہمت، عزتِ نفس، فرض شناسی اور ماں کی محبت نے افسر کو بے حد متاثر کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ حقیقی تعلیم اور انسانیت کتابوں یا بڑے عہدوں میں نہیں بلکہ اعلیٰ کردار میں ہوتی ہے۔ اسی عورت نے اس کی سوچ اور زندگی کا رخ بدل دیا۔

افسانہ “روشنی میں پریم چند نے انسانیت، خودداری، ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق کا درس دیا ہے۔ افسانہ بتاتا ہے کہ انسان کی اصل عظمت دولت، عہدے یا ظاہری تعلیم میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ بیوہ عورت اپنی شدید غربت کے باوجود عزتِ نفس کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔ اسی طرح آئی۔سی۔ایس۔ افسر بھی اس عورت کے کردار سے متاثر ہو کر ایک اندھے بوڑھے کی جان بچاتا ہے اور انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اچھے اعمال، خودداری اور دوسروں کی مدد کرنا ہی حقیقی روشنی ہے، جو انسان کی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔

پریم چند اردو اور ہندی کے سب سے بڑے افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اردو افسانے کو حقیقت نگاری اور سماجی شعور عطا کیا۔ ان کے افسانوں میں دیہی زندگی، غربت، ظلم، ناانصافی، کسانوں کی مشکلات، انسانی اقدار اور معاشرتی مسائل کی حقیقی تصویر ملتی ہے۔ ان کی زبان نہایت سادہ، عام فہم اور مؤثر ہے، جس کی وجہ سے ان کے افسانے ہر طبقے کے لوگوں میں مقبول ہیں۔ “کفن”، “عیدگاہ”، “پوس کی رات”، “نمک کا داروغہ”، “بڑے گھر کی بیٹی اور “روشنی ان کے مشہور افسانے ہیں۔ پریم چند نے اپنے افسانوں کے ذریعے انسانیت، انصاف، اخلاق اور سماجی اصلاح کا پیغام دیا، اسی لیے انہیں اردو افسانے کا معمار کہا جاتا ہے۔

افسانہ “روشنی پریم چند کی نہایت مؤثر اور سبق آموز کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ “کفن، “عیدگاہ اور “پوس کی رات جیسی کہانیاں زیادہ مشہور ہیں، لیکن “روشنی اپنی منفرد فکر اور اخلاقی پیغام کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کہانی میں پریم چند نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آئی۔سی۔ایس۔ افسر اور ایک غریب دیہاتی بیوہ عورت کے کرداروں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل عظمت انسان کے عہدے، دولت یا تعلیم میں نہیں بلکہ اس کے کردار، خودداری اور انسانیت میں ہے۔

اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ایک کردار کی ذہنی تبدیلی کو نہایت فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بیوہ عورت کا صبر، ہمت، عزتِ نفس اور اپنے بچوں سے محبت افسر کے دل میں انسانیت کی نئی روشنی پیدا کرتی ہے۔ بعد میں وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک اندھے بوڑھے کی جان بچاتا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کردار میں حقیقی تبدیلی آ چکی ہے۔

سادہ زبان، مؤثر منظر نگاری، مضبوط کردار نگاری اور اعلیٰ اخلاقی پیغام اس افسانے کو پریم چند کی بہترین تخلیقات میں شامل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “روشنی آج بھی قارئین کو انسانیت، خودداری اور خدمتِ خلق کا سبق دیتی ہے۔

This post provides complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 4 – “Roshni” by Premchand notes in simple language. It includes the summary of the short story, Premchand’s biography, short and detailed questions with answers, objective questions, vocabulary exercises, sentence formation, antonyms, grammar practice, and important exam-oriented explanations. These well-organized solutions are designed to help Class 11 students understand the chapter easily and prepare effectively for the Bihar Board examinations.