Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 5 Solutions, Anokhi muskurahat, انوکھی مسکراہٹ

سید محمد محسن جولائی 1910ء میں عظیم آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رشید اور دادا سید وحید الدین تھے، جبکہ ان کے نانا یوسف حسین کوکو کے رہنے والے تھے اور سر سید کی تعلیمی تحریک سے بے حد متاثر تھے۔ یوں محسن کا ددھیال اور ننھیال، دونوں ہی گھرانے عصری تعلیم سے بہرہ ور تھے۔

ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ 1926ء میں رام موہن رائے سیمری اسکول سے میٹرک کیا اور 1931ء میں پٹنہ کالج سے فلسفے میں آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1934ء میں جب انھوں نے اعلیٰ نمبروں سے ایم اے پاس کیا تو گولڈ میڈل کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے ریسرچ اسکالرشپ بھی ملی۔ ایم اے میں ان کا خصوصی مضمون نفسیات تھا۔ 1938ء میں پٹنہ کالج میں تدریس کی ذمے داری سنبھالی۔ اس کے بعد 1946ء سے 1948ء تک وہ تحقیق کی غرض سے اڈنبرا یونیورسٹی، برطانیہ میں مقیم رہے، جہاں پروفیسر جیمس ڈریور کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اڈنبرا یونیورسٹی میں نفسیات کو فلسفے سے الگ کر کے ایک آزاد شعبے کی حیثیت دی جا چکی تھی، اور محسن کو وہاں نفسیات کے کئی نامور ماہرین کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ وطن واپسی پر 1953ء میں وہ پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے صدر مقرر ہوئے اور یہ سلسلہ 1974ء میں سبک دوشی تک جاری رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پانچ برس تک یو جی سی کی اسکیم کے تحت پڑھاتے رہے۔

نجی زندگی میں 1933ء میں ان کی شادی مولوی ضمیر الدین کی صاحبزادی محفوظہ سے ہوئی۔ انھوں نے اپنے تمام بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، اور 1973ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ حج بیت اللہ ادا کیا۔ 2 مارچ 1999ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔

پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہونے کے باوجود سید محمد محسن کا قلمی سفر اردو ادب سے بھی جڑا رہا، اگرچہ ان کی زیادہ تر تحریریں انگریزی میں تھیں۔ 1937ء میں ان کا نفسیاتی افسانہ “انوکھی مسکراہٹ” شائع ہوا جسے زبردست مقبولیت ملی، اور 1973ء میں اسی نام سے ان کے افسانوں کا مجموعہ بھی چھپا۔ اس کے علاوہ انھوں نے “نفسیاتی زاویے” کے نام سے مضامین کا مجموعہ، “سعادت حسن منٹو، اپنی تخلیقات کی روشنی میں” کے عنوان سے تنقیدی جائزے، “زخموں کے پھول” کے نام سے شعری مجموعہ، اور “لمحوں کا کارواں” کے عنوان سے اپنی خودنوشت تحریر کی۔ فرائڈ کی نفسیات پر بھی انھوں نے اردو میں متعدد مضامین لکھے، البتہ ان کا مجموعہ ابھی تک کتابی شکل میں سامنے نہیں آیا۔ ترقی اردو بیورو نے ان کی ایک انگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ “ابتدائی نفسیات” کے نام سے شائع کیا۔

ایک قبرستان کے مجاور بڈھے اور اس کی بیٹی جمنی کی کہانی ہے۔ دونوں قبرستان کے قریب ایک جھونپڑی میں رہتے ہیں، اور ان کی روزی روٹی کا انحصار مُردوں کی تدفین سے ملنے والی مزدوری پر ہے۔ کہانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کئی دنوں سے کوئی موت نہیں ہوئی اور گھر میں فاقے کی نوبت آ چکی ہے۔ بڈھا اپنی بیٹی سے پرانے، خوش حال دنوں کا ذکر کرتا ہے، جیسے وہ زمانہ جب شہر میں طاعون پھیلا تھا اور روز لاشیں آتی تھیں، تو گھر میں خوب مٹھائیاں اور اچھے کپڑے ہوا کرتے تھے۔ یوں جمنی کے ذہن میں بچپن ہی سے یہ بات جڑ پکڑ لیتی ہے کہ کسی کی موت دراصل خوشی اور خوشحالی کا پیغام لاتی ہے۔

ایک رات ایک امیر سوداگر کے بیٹے کی موت کی خبر آتی ہے اور بڈھے کو اچھی خاصی رقم مل جاتی ہے۔ جمنی جنازے کو دیکھ کر بے اختیار مسکرانے اور ہنسنے لگتی ہے۔ کچھ عرصے بعد بڈھا خود بیمار ہو کر مر جاتا ہے۔ ڈاکیا حنیف، جو پہلے سے جمنی سے مانوس تھا اور اس سے محبت کرتا تھا، اسے اپنے گھر لے جاتا ہے اور دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔

نئی زندگی میں بھی جمنی کی یہ عادت نہیں جاتی۔ محلے میں جب بھی کوئی موت ہوتی، وہ وہاں پہنچ کر مسکراتی رہتی، جس پر لوگ اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ حنیف اسے منع کرتا ہے مگر وہ خود پر قابو نہیں رکھ پاتی۔ ایک روز ان کا اپنا بیمار بچہ زہر کی دوا (جو غلطی سے یا نیند کی حالت میں جمنی کے ہاتھوں) کھا کر مر جاتا ہے۔ بچے کے جنازے پر بھی جمنی کے چہرے پر وہی پراسرار مسکراہٹ ہوتی ہے، جسے دیکھ کر حنیف کو شدید صدمہ پہنچتا ہے اور اس پر خوف طاری ہو جاتا ہے کہ جمنی کوئی ڈائن ہے۔ وہ ذہنی طور پر ٹوٹ جاتا ہے اور آخرکار مر جاتا ہے، مرتے مرتے وہ جمنی پر الزام لگا جاتا ہے کہ اسی نے اسے زہر دیا۔

حنیف کے جنازے پر بھی جمنی مسکراتی نظر آتی ہے۔ حنیف کے بھائی کو اس پر پورا یقین ہو جاتا ہے کہ جمنی نے اپنے شوہر کو زہر دے کر مارا۔ معاملہ پولیس تک پہنچتا ہے، گھر کی تلاشی میں زہر کی خالی شیشی مل جاتی ہے، اور جمنی پر قتل کا مقدمہ چل کر اسے عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

کہانی کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ جمنی اب بھی قید خانے میں زندگی گزار رہی ہے، اور آج بھی جب کسی قیدی کی موت دیکھتی ہے تو وہی انوکھی، ان دیکھی خوشی سے بھری مسکراہٹ اس کے چہرے پر آ جاتی ہے۔

یہ افسانہ دراصل بچپن کے نفسیاتی اثرات کی گہرائی دکھاتا ہے — کہ کس طرح ایک بچی کے ذہن میں غربت اور فاقوں کے ماحول میں موت کو خوشحالی سے جوڑ دیا جانا اس کی پوری زندگی کا نفسیاتی رویہ بن جاتا ہے، اور وہ خود بھی اس کی وجہ نہیں سمجھ پاتی۔ چونکہ محسن خود ماہر نفسیات تھے، اس افسانے میں ابتدائی تجربات کے انسانی رویے پر گہرے اور دیرپا اثر کو موضوع بنایا گیا ہے۔

جواب ۔

سید محمد محسن پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات تھے، اسی لیے وہ نفسیاتی افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں میں انسانی ذہن اور بچپن کے تجربات کے کردار پر پڑنے والے گہرے اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔

جواب ۔

انوکھی مسکراہٹ ان کی سب سے مشہور اور مقبول کہانی ہے، جو 1937ء میں شائع ہوئی۔

جواب ۔

شادی سے پہلے جمنی ایک ویران قبرستان کے قریب جھونپڑی میں اپنے باپ (بوڑھے مجاور) کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کی ماں بچپن ہی میں فوت ہو گئی تھی۔

جواب ۔

جمنی کا باپ اس لیے رویا کیونکہ کئی دنوں سے قبرستان میں کوئی مردہ نہیں آیا تھا، جس کی وجہ سے گھر میں فاقے کی نوبت آ گئی تھی۔ اسے اپنے بڑھاپے میں اس مصیبت اور بے بسی پر رونا آیا۔

جواب ۔

بچپن سے جمنی نے دیکھا تھا کہ جب بھی کوئی موت ہوتی تو اس کے گھر میں خوشحالی آ جاتی (پیسے، مٹھائیاں، اچھے کپڑے ملتے)۔ اس نفسیاتی تربیت کے باعث اس کے ذہن میں موت اور خوشی کا تعلق جڑ پکڑ گیا تھا، اسی لیے وہ کسی کی موت دیکھ کر بے اختیار مسکرا اٹھتی تھی۔

جواب ۔

اپنے بچے کی پراسرار موت اور جمنی کے موت پر مسکرانے کے مشاہدے نے حنیف کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر توڑ دیا۔ وہ مسلسل خوف و ہراس میں مبتلا رہنے لگا اور بیمار پڑ گیا۔ آخرکار اسی صدمے اور خوف کی حالت میں اس کا انتقال ہوا۔

جواب ۔

حنیف نے اپنی بیوی جمنی کو ڈائن کہا، کیونکہ اسے یقین ہو گیا تھا کہ جمنی نے اس کے بچے کو زہر دے کر مارا ہے اور اب وہ خود اسے بھی نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ مرتے وقت اس نے کہا “جمنی ڈائن ہے، اس سے مجھ کو بچاؤ، یہ مجھ کو کھا جائے گی۔”

جواب ۔

اس افسانے کے اہم کردار یہ ہیں: بوڑھا مجاور (جمنی کا باپ)، جمنی، حنیف (جمنی کا شوہر، ڈاکیہ)، اور حنیف کا بھائی۔

جواب ۔

یہ کہانی نفسیاتی زاویے سے اہم ہے، کیونکہ اس میں دکھایا گیا ہے کہ بچپن کے ماحول اور تجربات انسان کے لاشعور پر کیسے گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ جمنی کے ذہن میں موت اور خوشی کا جو تعلق بچپن میں قائم ہوا، وہ زندگی بھر اس کے رویے پر حاوی رہا، حالانکہ وہ خود بھی اس کی وجہ نہیں سمجھ پاتی۔ چونکہ محسن خود ماہر نفسیات تھے، اس لیے یہ افسانہ نفسیاتی حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہے۔

جواب ۔

ان کے افسانوی مجموعے کا نام بھی “انوکھی مسکراہٹ” ہے، جو 1973ء میں شائع ہوا۔

جواب ۔ د) مجاوری

جواب ۔ ب) حنیف

جواب ۔ ج) ڈاکیہ

جواب ۔ ب) بخار

جواب ۔ ج) زہر سے

جواب ۔ ج) حنیف کے بھائی نے

جواب ۔ الف) قتل

لفظضد
شامصبح
مصیبتراحت / آرام
مشکلآسان
مستقبلماضی
مردہزندہ
نمبرجملہجوڑا
1کوئی آئے تو میرا انتظار کراناکہنا کہ باوا ابھی آتے ہیں
2اگر مردے آنا بند ہو گئے تو اس کا باپ کیا کرے گادال چاول کہاں سے آئیں گے
3رات کے دو بجے تھےبڈھا چٹائی پر لیٹا کھانس رہا تھا
4دلّی والے سوداگر کا لڑکا مر گیاجنازہ صبح سویرے یہاں آئے گا
5جمنی اب قید کی زندگی گزار رہی ہےوہ بہت اداس اور غمگین رہتی ہے

سید محمد محسن نے اس مایوسی بھرے آغاز کے ذریعے کہانی کے پورے ماحول اور کرداروں کی معاشی و ذہنی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ بڈھے کی کانپتی آواز، اس کی کھانسی، اور اس کے دل کی “برف کی طرح سرد” غمناکی، یہ سب اس شدید غربت اور نا امیدی کی علامت ہیں جس میں یہ باپ بیٹی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ابتدائیے سے قاری کو اسی لمحے احساس ہو جاتا ہے کہ آگے کی کہانی مفلسی، بھوک اور موت کے گرد گھومنے والی ہے۔

اس جملے میں افسانہ نگار نے اس المناک تضاد کو نمایاں کیا ہے جو غربت انسانی سوچ میں پیدا کر دیتی ہے۔ عام حالات میں طاعون جیسی وبا، جس میں روزانہ لوگ مرتے ہوں، انسانیت کے لیے سب سے بڑا سانحہ ہوتی ہے۔ لیکن مجاور کے گھرانے کے لیے وہی زمانہ “اچھا زمانہ” تھا، کیونکہ اس دوران قبرستان میں کام زیادہ تھا اور گھر میں پیسہ، کھانا اور کپڑے وافر مقدار میں تھے۔ اس جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شدید غربت انسان کی اقدار اور احساسات کو کس طرح الٹ دیتی ہے — یہاں تک کہ عام انسانوں کے لیے باعثِ ماتم چیز، ایک محتاج گھرانے کے لیے خوشحالی کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی تضاد آگے چل کر جمنی کی نفسیات کی بنیاد بنتا ہے۔

افسانے میں منظر نگاری کسی خاص واقعے یا کیفیت کے لیے قاری کے ذہن کو پہلے سے تیار کرنے کا کام کرتی ہے۔ “رات کے دو بجے تھے، بڑھا چٹائی پر لیٹا کھانس رہا تھا، جمنی بے خبری کی نیند سو رہی تھی، رات نہایت تاریک اور بھیانک تھی” — ان جملوں میں رات کی تاریکی اور خاموشی کا نقشہ، بڑھے کی بے چینی اور جمنی کی بے خبر نیند کے تضاد کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس منظر نگاری سے ایک پراسرار اور غیر یقینی فضا قائم ہوتی ہے جو آگے آنے والے واقعے (سوداگر کے بیٹے کی موت کی خبر) کی اہمیت کو بڑھا دیتی ہے۔ منظر نگاری کہانی میں حقیقت پسندی پیدا کرتی ہے، جذباتی کیفیت کو گہرا کرتی ہے، اور واقعات کو محض بیان کرنے کے بجائے قاری کو اس ماحول میں لے جا کر محسوس کراتی ہے۔

اس افسانے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا گہرا نفسیاتی زاویہ ہے۔ سید محمد محسن نے، بحیثیت ماہر نفسیات، یہ دکھایا ہے کہ بچپن کے ماحول اور تجربات انسان کے لاشعور پر کس طرح دیرپا اور ناقابلِ مٹاؤ اثر چھوڑتے ہیں۔ جمنی نے بچپن سے موت کو خوشحالی، مٹھائی اور اچھے کپڑوں سے جوڑ کر دیکھا، اور یہی تعلق اس کے لاشعور میں اس طرح رچ بس گیا کہ وہ زندگی بھر موت پر بے اختیار مسکراتی رہی، حالانکہ خود اسے بھی اپنے اس ردعمل کی وجہ معلوم نہ تھی۔ افسانہ نگار نے بوڑھے باپ کی مجبوری کے ذریعے وہ ماحول تخلیق کیا جس نے جمنی کی نفسیات کو تشکیل دیا، اور یوں یہ کہانی محض ایک المیہ نہیں بلکہ انسانی ذہن کی تشکیل اور اس کے انجام کا نفسیاتی مطالعہ بن جاتی ہے۔

Explore the complete Bihar Board Class 11 Urdu Kahkashan Chapter 5 – “Anokhi Muskurahat” (انوکھی مسکراہٹ) solutions. This post includes the author’s biography, detailed story summary, chapter explanation, question answers, multiple-choice questions, word meanings, textbook exercises, extract explanations, and literary analysis in simple Urdu. It is an ideal study guide for Bihar Board Class 11 students preparing for exams.