NCERT Class 9 Urdu Jamuna Chapter 3 Matoob | Ghalib ke Khutoot | مکتوب ، غالب کے خطوط

مکتوب، مراسلہ اور خط مترادف الفاظ ہیں۔ خط پیغام رسانی کا اہم اور قدیم ذریعہ ہے۔ مکتوب نگار دور فاصلے پر بیٹھے ایک شخص کو خط لکھ کر اپنے جذبات اور خیالات کی ترسیل کرتا ہے۔ خط سے مکتوب نگار (لکھنے والا) اور مکتوب الیہ (جسے خط لکھا جائے) دونوں کی شخصیت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

مکتوب کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ ادبی، ذاتی، سوانحی، تاریخی اور تجارتی وغیرہ۔ اردو میں جدید مکتوب نگاری کا آغاز غالب کے خطوط سے ہوتا ہے۔ ان خطوط سے ہمیں اس عہد کے تاریخی، سیاسی اور سماجی حالات کا پتا چلتا ہے۔

بعض اہلِ قلم نے مکتوب نگاری کو ایک لطیف فن قرار دیا ہے۔ ایسے خطوط بڑی تعداد میں موجود ہیں جن میں اعلیٰ تخلیقی ادب کی خصوصیات پائی جاتی ہیں، اس لیے ان کا مطالعہ دل چسپ ہوتا ہے۔ مکتوب نگاری شخصی اظہار کی ایک شکل ہے، کیونکہ اس میں مخاطب کوئی ایک شخص ہوتا ہے، جب کہ ادب کی دوسری اصناف میں ایک ساتھ کئی لوگ مخاطب ہو سکتے ہیں۔ کچھ ادیبوں نے اتنے عمدہ خطوط لکھے کہ مکتوب نگاری کو اب ایک ادبی صنف کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔

مکتوب نگار کا مخاطب کوئی بھی ہو، اگر تحریر میں کشش ہو تو خط ہر پڑھنے والے کے لیے دل چسپ ہو جاتا ہے اور ایسے خطوط ادب پارے کے طور پر پڑھے جاتے ہیں۔ اردو نثر کی روایت میں مرزا غالب، علامہ شبلی نعمانی، مہدی افادی، چودھری محمد علی ردولوی، سید سلیمان ندوی، ابوالکلام آزاد، رشید احمد صدیقی، صفیہ اختر اور قرۃ العین حیدر وغیرہ کے خطوط نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

اہم نکات

خط پیغام رسانی کا قدیم ذریعہ ہے اور شخصی اظہار کی ایک شکل ہے۔

خط کی اقسام۔ ادبی، ذاتی، سوانحی، تاریخی، تجارتی۔

اردو میں جدید مکتوب نگاری کا آغاز غالب کے خطوط سے ہوا۔

اچھے خطوط ادب پارے کا درجہ رکھتے ہیں اور اب مکتوب نگاری ایک ادبی صنف مانی جاتی ہے۔

مرزا اسد اللہ خاں غالب (1797ء – 1869ء) کی ولادت آگرہ میں ہوئی۔ چچا نصر اللہ بیگ نے ان کی پرورش کی۔ شادی کے بعد غالب دہلی آ گئے، جہاں کے علمی اور ادبی ماحول میں ان کا شعری ذوق پروان چڑھا۔ غالب نظم اور نثر دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ جو بلند مرتبہ انھیں شاعری میں حاصل ہوا وہی رتبہ انھیں نثر میں بھی ملا۔ ان کی نثر کا عمدہ نمونہ ان کے خطوط ہیں۔

غالب کے خطوط کے مجموعے “عودِ ہندی” اور “اردوئے معلی” کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے خط کو بات چیت کی زبان سے قریب تر کر کے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔ ان کے خطوط پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے دو لوگ آپس میں بیٹھے گفتگو کر رہے ہوں۔ ان کے اردو خطوط میں ان کی اپنی زندگی اور زمانے کی دل چسپ تفصیلات سمٹ آئی ہیں۔ خاص طور پر 1857ء کے آس پاس کا ماحول ان کے خطوط میں جس تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے، اس کے پیشِ نظر یہ خطوط ایک تاریخی مواد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

انھوں نے جو اسلوب اختیار کیا اس کی نقل کسی سے بھی ممکن نہ ہو سکی۔ ان کے خطوط میں واقعہ نگاری، منظر نگاری اور جذبات نگاری کی غیر معمولی مثالیں موجود ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کا عنصر بھی غالب کی نثر میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔

چند اہم باتیں

پورا نام۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب

سنِ پیدائش و وفات۔ 1797ء – 1869ء

جائے پیدائش۔ آگرہ

پرورش۔ چچا نصر اللہ بیگ نے کی

خطوط کے مجموعے۔ عودِ ہندی، اردوئے معلی

نثر کی خصوصیات۔ بات چیت کا انداز، واقعہ نگاری، منظر نگاری، جذبات نگاری، طنز و مزاح

غالب کے خطوط

سبق میں غالب کے دو خط شامل ہیں، دونوں منشی ہر گوپال تفتہ کے نام ہیں۔ تفتہ فارسی کے اچھے شاعر اور غالب کے عزیز شاگرد تھے۔ غالب انھیں کسی راج القاب کے بجائے “بندہ پرور” اور “کیوں صاحب” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اس بے تکلفی سے یہ گمان ہوتا ہے جیسے تفتہ سامنے موجود ہوں اور غالب ان سے بات کر رہے ہوں۔

پہلا خط (سوموار، 27 دسمبر 1858ء)

 غالب بے تکلفی سے شکوہ کرتے ہیں کہ “کیوں صاحب! روٹھے ہی رہو گے یا کبھی مانو گے بھی؟” اور اگر کسی طرح نہیں مانتے تو روٹھنے کی وجہ ہی لکھ دو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے بھروسے جیتا ہوں۔ جس کا خط آ جائے میں سمجھتا ہوں کہ وہ شخص خود تشریف لایا۔ خدا کا احسان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب اطراف و جوانب سے دو چار خط نہ آتے ہوں، بلکہ کبھی دن میں دو دو بار ڈاک کا ہرکارہ خط لاتا ہے، ایک دو صبح کو اور ایک دو شام کو۔ غالب کا دل لگ جاتا ہے اور دن ان کے پڑھنے اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے۔ مگر دس بارہ دن سے تفتہ کا خط نہیں آیا، یعنی وہ نہیں آئے۔ غالب کہتے ہیں کہ خط لکھو، نہ لکھنے کی وجہ ہی لکھو، آدھ آنے میں بخل نہ کرو، اور اگر ایسا ہی ہے تو بیرنگ (بغیر ٹکٹ کے) بھیج دو۔

دوسرا خط (جون، جولائی 1858ء)

غالب پہلے اپنے دوستوں میر کرم حسین اور مرزا حاتم علی مہر کو سلام کہلواتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ جس شخص کو جس شغل کا ذوق ہو اور وہ اس میں بے تکلف عمر بسر کرے، اسی کا نام “عیش” ہے۔ تفتہ کی شعر و سخن سے حد سے زیادہ توجہ ان کی شرافتِ نفس اور حسنِ طبع کی دلیل ہے۔ ان کی سخن گستری کی شہرت میں غالب کا بھی نام آوری ہے۔ غالب اعتراف کرتے ہیں کہ اب ان کا حال یہ ہے کہ شعر کہنے کی روش اور اگلے کہے ہوئے اشعار سب بھول گئے ہیں۔ بس اپنے ہندی کلام میں سے ڈیڑھ شعر یاد رہ گیا ہے، یعنی ایک مقطع اور ایک مصرع، جو دل اُلٹنے لگے تو دس پانچ بار زبان پر آ جاتا ہے۔ مقطع میں وہ اپنی زندگی گزرنے کا حال اور یہ خیال بیان کرتے ہیں کہ بعد میں شاید کوئی ہمیں یاد بھی کرے گا یا نہیں۔ مصرع میں وہ اچانک آنے والی موت کو پکارتے ہیں اور اسے مخاطب کر کے پوچھتے ہیں کہ تجھے کس بات کا انتظار ہے۔

پھر غالب اپنے اصل غم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔ دکھ تو یہ ہے کہ 1857ء کے ہنگاموں میں انگریز قوم کے جو لوگ مارے گئے، ان میں کوئی ان کا امید گاہ، کوئی شفیق، کوئی دوست اور کوئی شاگرد تھا، اور ہندوستانیوں میں سے کچھ معشوق، کچھ عزیز، کچھ دوست اور کچھ شاگرد، سب خاک میں مل گئے۔ جو شخص اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو، اس کے لیے زندگی دشوار کیوں نہ ہو؟ آخر میں وہ دکھ سے کہتے ہیں کہ اتنے یار مر گئے ہیں کہ اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہو گا، اور “انا للہ و انا الیہ راجعون” پر بات ختم کرتے ہیں۔

خطوط کی خصوصیات۔

بے تکلفی اور بات چیت کا انداز، جیسے آمنے سامنے گفتگو ہو رہی ہو۔

رشتوں کا ربط، اپنائیت، دوستی کا تعلق، خلوص کی گرمی اور جذبات کی سچائی۔

ذاتی زندگی کی عکاسی کے ساتھ اس عہد کی ادبی، سماجی اور سیاسی صورتِ حال کی جھلک، اس لیے خطوط کو دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔

ڈیڑھ سو سال سے زیادہ پرانے ہونے کے باوجود شوخی، شگفتگی اور اظہار کی بے تکلفی کے باعث یہ ادبی شاہکار ہیں۔

مرکزی خیال۔ غالب کے خطوط ان کی ذاتی زندگی، دوستوں سے محبت اور 1857ء کے بعد کے دکھ بھرے ماحول کی سچی تصویر ہیں، اور ان کی بے تکلف نثر نے خط کو ایک ادبی صنف بنا دیا۔

الف) افسانہ
ب) مراسلہ
ج) نظم
د) داستان

الف) مکتوب الیہ
ب) قاصد
ج) مکتوب نگار
د) ہرکارہ

الف) مکتوب الیہ
ب) مکتوب نگار
ج) نامہ بر
د) راوی

الف) علامہ شبلی نعمانی کے
ب) ابوالکلام آزاد کے
ج) صفیہ اختر کے
د) غالب کے

الف) شخصی اظہار
ب) اجتماعی اظہار
ج) سیاسی تقریر
د) تجارتی معاہدہ

الف) دہلی
ب) لکھنؤ
ج) آگرہ
د) میرٹھ

الف) 1797ء – 1869ء
ب) 1880ء – 1936ء
ج) 1925ء – 2016ء
د) 1887ء – 1966ء

الف) والد نے
ب) ماموں نے
ج) چچا نصر اللہ بیگ نے
د) استاد نے

الف) آگرہ
ب) دہلی
ج) لاہور
د) کلکتہ

الف) غبارِ خاطر اور ذرّے
ب) عودِ ہندی اور اردوئے معلی
ج) گلی کوچے اور کنکری
د) واردات اور آخری تحفہ

الف) نظم
ب) افسانہ
ج) مکالمہ
د) داستان

الف) 1757ء
ب) 1907ء
ج) 1947ء
د) 1857ء

الف) ڈاکیہ، خط پہنچانے والا
ب) شاعر
ج) استاد
د) مسافر

الف) میر کرم حسین
ب) مرزا حاتم علی مہر
ج) منشی ہر گوپال تفتہ
د) نواب صدر یار جنگ

الف) عربی
ب) ہندی
ج) فارسی
د) انگریزی

الف) جناب عالی اور حضور والا
ب) بندہ پرور اور کیوں صاحب
ج) برخوردار اور عزیزم
د) قبلہ اور کعبہ

الف) جون، جولائی 1858ء
ب) 7 جنوری 1943ء
ج) 1857ء
د) 27 دسمبر 1858ء

الف) ایک دو دن
ب) ایک ماہ
ج) ایک سال
د) دس بارہ دن

الف) خطوں کے بھروسے
ب) دولت کے بھروسے
ج) سفر کے بھروسے
د) کتابوں کے بھروسے

الف) دولت اور آرام
ب) سیر و تفریح
ج) جس شغل کا ذوق ہو اس میں بے تکلف عمر بسر کرنا
د) کھانا پینا

الف) پورا دیوان
ب) ایک غزل
ج) دس شعر
د) ڈیڑھ شعر

الف) 1857ء کے ہنگاموں میں دوستوں، عزیزوں اور شاگردوں کا مارا جانا
ب) مالی تنگی
ج) سفر کی تکلیف
د) شاعری سے دوری

الف) رنگین
ب) بغیر ٹکٹ کے بھیجا ہوا خط یا مال
ج) کنجوسی
د) ڈاکیہ

الف) وہ موت جو اچانک آ جائے
ب) لمبی عمر
ج) نئی زندگی
د) بیماری

الف) الف
ب) واو
ج) نون غنہ
د) ہمزہ

جواب۔ غالب نے اپنا حال بے تکلفی، شوخی اور اپنائیت کے انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ منشی ہر گوپال تفتہ کو “بندہ پرور” اور “کیوں صاحب” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، جس سے یوں لگتا ہے جیسے وہ سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ پہلے خط میں وہ دوست سے روٹھنے کا شکوہ کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ تنہائی میں وہ صرف خطوں کے بھروسے جیتے ہیں۔ دن میں دو دو بار ہرکارہ خط لاتا ہے تو ان کا دل لگا رہتا ہے، مگر دس بارہ دن سے تفتہ کا خط نہیں آیا تو گلہ کرتے ہیں اور مزاح سے کہتے ہیں کہ آدھ آنے میں بخل نہ کرو، ورنہ بیرنگ ہی بھیج دو۔ دوسرے خط میں وہ اپنی تنہائی اور دوستوں کی جدائی کا دکھ بھی اسی سادگی اور سچائی سے بیان کرتے ہیں۔ یوں ان کے حال بیان کرنے میں ایک طرف شگفتگی اور طنز و مزاح ہے اور دوسری طرف دلی دکھ کی گہرائی بھی۔

جواب۔ غالب کے نزدیک عیش آرام و آسائش یا دولت کا نام نہیں ہے۔ دوسرے خط میں وہ لکھتے ہیں کہ جس شخص کو جس شغل کا ذوق ہو اور وہ اس میں بے تکلف عمر بسر کرے، اسی کا نام عیش ہے۔ یعنی انسان اپنی پسند کے کام میں بے فکری اور سکون کے ساتھ مصروف رہے تو یہی اصل عیش ہے۔ اسی بنیاد پر وہ تفتہ سے کہتے ہیں کہ ان کی شعر و سخن میں حد سے زیادہ توجہ ان کی شرافتِ نفس اور حسنِ طبع کی دلیل ہے۔ غالب کے مطابق اگر شاعری جیسا اچھا شغل اور اس میں ڈوب جانے کی آزادی میسر ہو تو اس سے بڑھ کر کوئی سہولت اور راحت نہیں۔

جواب۔ غالب نے 1857ء کے بعد کی صورتِ حال کو ایک دکھے ہوئے اور تنہا انسان کی نظر سے پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کا اصل غم اپنی بے رونقی اور تباہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس ہنگامے میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ انگریز قوم کے جو لوگ مارے گئے ان میں ان کا کوئی امید گاہ، کوئی شفیق، کوئی دوست اور کوئی شاگرد تھا۔ ہندوستانیوں میں سے کچھ معشوق، کچھ عزیز، کچھ دوست اور کچھ شاگرد، سب خاک میں مل گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو شخص اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو، اس کے لیے زندگی دشوار کیوں نہ ہو۔ آخر میں وہ دکھ سے کہتے ہیں کہ اتنے یار مر گئے ہیں کہ اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہو گا۔ پہلے خط کی تنہائی اور خطوں پر انحصار بھی اسی بربادی اور بے سہارا ہو جانے کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح یہ خطوط 1857ء کے بعد کے ماحول کی ایک سچی تاریخی اور جذباتی تصویر ہیں۔

جواب۔ پرانے زمانے میں قاصد، نامہ بر اور پیامی خط اور پیغام پہنچاتے تھے، اور بعد میں ڈاک اور ہرکارے کا نظام رائج ہوا۔ اس کے بعد تار، ٹیلی فون اور موبائل فون آئے۔ آج سبق کے مطابق ای میل اور ایس ایم ایس جیسی سہولتیں میسر ہیں، اور ان کے علاوہ واٹس ایپ جیسی ایپس اور ویڈیو کال کے ذریعے بھی پیغام اور خبریں لمحوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ یوں پیغام رسانی کے ذرائع وقت کے ساتھ بہت تیز اور آسان ہو گئے ہیں، مگر خط کی اپنائیت اور ادبی حیثیت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے۔

مفہوم۔ دوستوں سے دوری اور اکیلے پن میں میرا واحد سہارا خط ہیں۔ کسی کا خط آ جائے تو مجھے لگتا ہے کہ وہ خود آ گیا ہے، اور اسی سے میرا دل بہلا رہتا ہے۔

مفہوم۔ غالب کے نزدیک دوست کا خط آنا ملاقات کے برابر ہے۔ اس لیے جب دس بارہ دن خط نہ آئے تو وہ کہتے ہیں کہ گویا تم خود ہی نہیں آئے، اور اس بات کا پیار بھرا گلہ کرتے ہیں۔

مفہوم۔ شعر و شاعری سے تمھارا حد سے زیادہ لگاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ تم نیک طبیعت، شریف اور اچھے مزاج کے انسان ہو۔

مفہوم۔ میرا اصل دکھ اپنی ذاتی بربادی یا بے رونقی کا نہیں ہے۔ مجھے اصل غم ان بہت سے دوستوں، عزیزوں اور شاگردوں کے مارے جانے کا ہے جو 1857ء کے ہنگاموں میں ختم ہو گئے۔

مفہوم۔ تم اچھے شاعر ہو اور تمھاری شعر گوئی مشہور ہے۔ چونکہ تم میرے شاگرد ہو، اس لیے تمھاری اس شہرت سے مجھے بھی نیک نامی ملتی ہے۔

کن کے لیےلقبنمبر
اساتذہ کے لیےاستادِ محترم1
والد، دادا یا بزرگ کے لیےقبلہ و کعبہ2
بزرگ اور قابلِ احترام شخصیت کے لیےمخدومِ گرامی3
کسی معزز شخصیت یا بڑے کے لیےجنابِ عالی4
عام طور پر بزرگوں اور بڑوں کے لیےمحترمی و مکرمی5
متبادلاتلفظ
مکتوب، مراسلہ، نامہ، چٹھیخط
یار، رفیق، ساتھی، احبابدوست
دکھ، رنج، صدمہ، افسوسغم
طالب علم، متعلم، تلمیذشاگرد
مہربان، ہمدرد، نرم دلشفیق
خطابیہ جملہخطابیہ جمعلفظ
بیٹو! محنت سے پڑھو اور آگے بڑھو۔بیٹوبیٹا
بیٹیو! تعلیم تمھاری سب سے بڑی طاقت ہے۔بیٹیوبیٹی
بزرگو! آپ کی دعائیں ہمارا سرمایہ ہیں۔بزرگوبزرگ
نوجوانو! ملک کا مستقبل تمھارے ہاتھوں میں ہے۔نوجوانونوجوان
استادو! آپ قوم کے معمار ہیں۔استادواستاد
ایک لفظوضاحت
مکتوب نگارخط لکھنے والا
مکتوب الیہجسے خط لکھا جائے
مکتوب نگاری (مراسلت)خط لکھنا
قاصد (نامہ بر، ہرکارہ)خط لے جانے والا

In this post, Class 9 Urdu Chapter 3 – Ghalib Ke Khutoot with complete NCERT Urdu notes, including Ghalib Ke Khutoot summary, question answers, and MCQs for effective exam preparation. And also Learn about Maktoob Nigari (letter writing), read Mirza Ghalib’s biography, and discover his famous letters to Munshi Har Gopal Tafta. These study materials help students understand the chapter, revise important concepts, and prepare confidently for their Urdu examinations.

Scroll to Top